حکومت جے یو آئی کے احتجاج پر اثرانداز نہیں ہونا چاہتی
8 فروری کے احتجاج کے حوالے سے پی ٹی آئی کو فری ہینڈ ملتا نظر نہیں آ رہا
(تجزیہ:سلمان غنی)
جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے تیور حکومت کے حوالے سے بدلے بدلے نظر آ رہے ہیں اور وہ حکومتی پالیسیوں خصوصاً بورڈ آف پیس میں پاکستان کی نمائندگی کو ٹارگٹ کرتے ہوئے 8 فروری کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ وہ پارلیمنٹ کے فلور پر بھی یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ ہمیں جن ایشوز پر پی ٹی آئی کی حکومت سے اختلافات تھے ، موجودہ حکومت ان پر چار ہاتھ آگے ہے ۔بلاشبہ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے میں مولانا فضل الرحمن کا بنیادی کردار تھا اور یہی وجہ تھی کہ پی ڈی ایم کی حکومت میں انہیں بڑا حصہ ملا تھا، لیکن 8 فروری کے انتخابی عمل کے نتیجے میں بننے والی حکومت میں مولانا فضل الرحمن شریک نہیں ہوئے یا انہیں حکومت میں شامل نہیں کیا گیا۔ جہاں تک مولانا فضل الرحمن کے بگڑتے تیور اور احتجاجی حکمت عملی کا سوال ہے ، تو وہ فلسطین جیسے سلگتے ایشوز پر تو احتجاج منظم کر سکتے ہیں مگر وہ اس مرحلے پر ریاست یا حکومت کو ٹارگٹ نہیں کریں گے ۔ ان کی جانب سے 8 فروری کو یوم سیاہ منانے کا اعلان بھی خود اپوزیشن کی تقویت کا باعث بننے کے بجائے خود مولانا فضل الرحمن کے لیے اہم ہوگا کیونکہ وہ فلسطین اور امن عمل کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت پر ردعمل ظاہر کریں گے ۔ اس پر حکومت نہ چاہتے ہوئے بھی احتجاج پر اثرانداز نہیں ہو گی کیونکہ حکومت نہیں چاہے گی کہ اپوزیشن خصوصاً پی ٹی آئی کے احتجاجی عمل میں جے یو آئی یا جماعت اسلامی ان کا ساتھ دیں۔
جے یو آئی اور جماعت اسلامی بھی حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کے باوجود سسٹم پر اثرانداز نہیں ہونا چاہتیں اور نہ ہی ایسی کسی کارروائی میں شریک ہوں گی جس کا فائدہ اپوزیشن یا پی ٹی آئی کو ہو۔ ویسے بھی حالات کا رخ بتا رہا ہے کہ فی الحال پی ٹی آئی کا بڑا کردار اور احتجاجی عمل نظر نہیں آ رہا۔ماہرین سیاست کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اپنی حکمت عملی کے تحت احتجاجی اور مزاحمتی سیاست کو نتیجہ خیز نہیں بنا سکی اور مسلسل احتجاجی عمل نے ان کی جماعت اور ذمہ داران کو تنہا کر دیا ہے ۔ اگر اس مرحلے پر مذہبی جماعتیں پی ٹی آئی کے ساتھ ملیں یا پی ٹی آئی انہیں ساتھ ملائے تو پھر سے پی ٹی آئی کا سیاسی کردار بن سکتا ہے ۔لہٰذا حکومت حکمت عملی یہ طے کر چکی ہے کہ جے یو آئی کے احتجاج پر اثرانداز نہیں ہونا اور مولانا فضل الرحمن کو ٹارگٹ نہیں کرنا،فضل الرحمن کی حکومت، اس کی قیادت اور پالیسیوں پر تنقید کو بوجوہ ہضم کیا جاتا رہا ہے اور کیا جائے گا۔ تاہم 8 فروری کے احتجاج کے حوالے سے پی ٹی آئی کو فری ہینڈ ملتا نظر آ رہا ہے اور نہ ہی 8 فروری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال یا پہیہ جام کے امکانات ہیں۔ خود اپوزیشن کی قیادت کو اس کی وجوہات کا بخوبی اندازہ ہے اور اب تو نئے حالات میں پی ٹی آئی کو جے یو آئی اور خود مولانا فضل الرحمن سے زیادہ توقعات بھی نہیں ہیں۔جہاں تک فلسطین کے حوالے سے جاری امن عمل اور بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کا سوال ہے ، اس میں دیگر اسلامی ممالک کی شمولیت کے ساتھ سارا وزن پاکستان پر نہیں آ سکتا۔ اس حوالے سے پاکستان میں مختلف آراء ہیں اور اس بنا پر مذہبی جماعتیں احتجاجی جلسوں کے ذریعے اپنا ردعمل ضرور ظاہر کریں گی، مگر عملاً انہیں اس بات کی اجازت نہیں ہو گی کہ وہ پاکستان کے اس فیصلے پر پاکستان کے اندر ایسا ماحول پیدا کر سکیں جس سے بیرونی محاذ اور خصوصاً عالمی اور اسلامی قیادت کے سامنے پاکستان کی پوزیشن متاثر ہو۔