مرحوم مالکِ مکان کے نام پر عدالت میں کرایہ جمع کرانا قانونی حیثیت نہیں رکھتا:سپریم کورٹ

مرحوم مالکِ مکان کے نام پر  عدالت میں کرایہ جمع کرانا قانونی  حیثیت نہیں رکھتا:سپریم کورٹ

اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مرحوم مالکِ مکان کے نام پر عدالت میں کرایہ جمع کرانا کسی صورت قانونی حیثیت نہیں رکھتا، ایسا کرنے والے کرایہ دار بے دخلی کے مستحق ہوں گے۔۔۔

 چیف جسٹس سپریم کورٹ یحیی آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سندھ ہائیکورٹ کراچی کے 6 جون 2023 کے فیصلے کے خلاف دائر سول پٹیشنز کی سماعت کے بعد درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت کے مطابق محمد رمضان کے انتقال کے بعد ان کے تمام قانونی وارث قانون کے تحت خودبخود مالکِ مکان بن گئے اور کسی نئے معاہدے یا باضابطہ اٹارنمنٹ کی ضرورت نہیں تھی۔ جب قانونی وارثوں کا نوٹس جاری ہو جائے اور وصولی بھی تسلیم شدہ ہو تو کرایہ دار ان وارثوں کو بطور مالک تسلیم کرنے اور کرایہ ادائیگی کا پابند ہوتا ہے ۔ زیرِ سماعت مقدمے میں کرایہ داروں نے نہ صرف مالک کی وفات کا اعتراف کیا بلکہ تدفین میں شرکت بھی کی، انہوں نے قانونی وارثوں کو کرایہ ادا کرنے کے بجائے مرحوم مالک کے نام پر عدالت میں کرایہ جمع کرانا جاری رکھا جو قانون کی نظر میں بے معنی ہے ۔ کرایہ دار اس بنیاد پر ادائیگی سے انکار نہیں کر سکتا کہ دیگر وارث بھی موجود ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں