پاکستان کی امریکا اور ایران کے درمیان پس پردہ ثالثی
امریکا کے ایران کی ایٹمی تنصیبات پرحملے کے دوران بھی اسحاق ڈار دونوں کیساتھ رابطے میں رہے احتجاج اورپھانسی معاملات پر امریکہ ،ایران سے مسلسل رابطہ رکھا گیا، خطے میں پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)ایران اور پاکستان کے تعلقات موجودہ وقت میں ایک اچھے دور سے گزر رہے ہیں اور پاکستان ہر طرح کی سفارتی سپورٹ ایران کو فراہم کر رہا ہے ۔ باوثوق سفارتی ذرائع کے مطابق ایران میں ہونے والے حالیہ احتجاجوں پر جب دنیا میں بات ہونے لگی اور رجیم چینج جیسے نعرے لگے تو پاکستان نے ایران کا ساتھ دیا۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پس پردہ ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ایران میں پھانسی کی سزا کے خاتمے سے متعلق پیغامات اور بات چیت میں بھی پاکستان نے کردار ادا کیا جس کے بعد معاملات کنٹرول میں آ گئے ۔ اس کے بعد ایران نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال بھی چھوڑ دیا۔پاکستان نے ایران کے معاملے پر اپنا موقف دنیا کے سامنے نپا تلا رکھا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی قیادت اور عوام پر پاکستان کو یقین ہے کہ وہ ان احتجاجوں اور حالات سے نمٹ لیں گے ۔ذرائع کے مطابق پاکستان کی خاموش سفارت کاری سے خطے میں اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔
گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں بھی ایران کے معاملے پر پاکستان ان کے ساتھ کھڑا رہا اور ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔اسلام آباد کے اس موقف پر پاکستان میں موجود ایران کے سفیر نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے علاوہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اسحاق ڈار کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے ۔ اسحاق ڈار کے متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے کے دوران بھی عباس عراقچی نے ان سے رابطہ کیا۔اس سے قبل جب امریکہ نے ایران کے اندر ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تھا، اس وقت بھی پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا رہا اور امریکہ و ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اس دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں تھے ۔ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے کردار کی تصدیق اسحاق ڈار نے گزشتہ روز بھی کی تھی اور کہا تھا کہ ایران پاکستان کا برادر اور ہمسایہ ملک ہے ، اور اس کا مؤقف ایران کے سامنے رکھا گیا ہے ۔