لاہور ہائیکورٹ :ٹیکسالی، شیرانوالہ گیٹ پارکنگ منصوبہ روکنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ :ٹیکسالی، شیرانوالہ گیٹ پارکنگ منصوبہ روکنے کا حکم

داتا دربار واقعہ افسوسناک :جسٹس شاہد کریم،ڈی جی ایل ڈی اے ، ایڈووکیٹ جنرل طلب درختوں کی کٹائی نہ روکنے پر وائس چانسلر، رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کو توہین عدالت کانوٹس

لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت ،عدالت نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ پر جاری انڈ رگراؤنڈ پارکنگ منصوبے کو روک دیا۔ جسٹس شاہد کریم نے کہاکہ مین ہول میں ماں بیٹی کے گر کر جاں بحق ہونے پر بہت افسوس ہے ، عدالت کے حکم کے باوجود پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی نہ روکنے   پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کو توہین عدالت کانوٹس جاری کردیا ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی ۔ عدالت کو ماحولیاتی کمیشن کے ممبرز سید کمال حیدر اور میاں عرفان اکرم کی جانب سے بتایا گیا کہ عدالتی حکم کے باجود پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی کی گئی جو توہین عدالت کے مترادف ہے ۔

دوران سماعت وکیل اظہر صدیق نے داتا دربار کے اطراف سے درختوں کو کاٹنے کی نشاہدہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ درختوں کی جان تو لے رہے تھے اب ایک ماں اور ننھی بچی کی جان لے لی ہے ،دو روز قبل ماں اور بیٹی مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوئیں۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ یہ بہت افسوسناک سانحہ ہوا ہے ۔ عدالت نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ پر جاری انڈ گراؤنڈ پارکنگ پروجیکٹ کو روکتے ہوئے ڈی جی ایل ڈی اے اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔دوران سماعت عدالت نے پنجاب یونیورسٹی سے درختوں کی کٹائی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ڈی جی پی ایچ اے نے اب تک کیا کیا ہے ،ایک میٹنگ نہیں کی ۔وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے درختوں کی کٹائی پر ڈی جی پی ایچ اے کو خود نوٹس لینا چاہیے تھا مگر پی ایچ اے کا رول نظر نہیں آیا ۔عدالت نے ڈی جی پی ایچ اے کو تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے ساتھ میٹنگ کرنے کی ہدایت کردی اور کہاکہ پنجاب یونیورسٹی کے درختوں کی کٹائی والا معاملہ اینٹی کرپشن کو بھی بھیجیں گے ۔عدالت نے ڈی جی پی ایچ اے کو بھی عدالت پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے 2فروری تک سماعت ملتوی کردی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں