‘ گڈ گورننس،‘تھانہ کلچر’ کا پول 1 واقعے نے کھول دیا:حافظ نعیم

‘ گڈ گورننس،‘تھانہ کلچر’ کا پول 1 واقعے نے کھول دیا:حافظ نعیم

تمام اختیارات ایک خاندان کے ہاتھ میں رکھنے کا نظام بدلنا ہوگا،امیر جماعت اسلامی یکطرفہ فیصلہ قبول نہیں، اپوزیشن غزہ فوج بھیجنے کی مخالفت کرے : خطاب، بیان

لاہور(سیاسی نمائندہ)امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب میں ‘گڈ گورننس’ اور ‘تھانہ کلچر’ کا پول ایک واقعے نے کھول دیا۔ جبر کا نظام ملاحظہ فرمائیں کہ حادثے کو ‘فیک نیوز’ قرار دیا گیا اور مظلوم شخص کو مجرم بنانے کیلئے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جب تمام حربے ناکام ہوگئے اور معاملہ کھلا تو نمائشی عدالت لگائی اور کچھ افسروں کو برطرف کرنے کا شاہی فرمان جاری کردیا۔لاہور میں ماں بیٹی کی سیوریج پائپ میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک اور دلخراش واقعہ پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پراپنے بیان میں امیر جماعت اسلامی نے کہا آخر تھانے کو یہ جرات اور اختیار کس نے دیا ہوا ہے کہ وہ ایک مظلوم شہری کو ٹارچر کرے ؟، آخر پنجاب میں نچلی سطح تک بااختیار بلدیاتی نظام کیوں نہیں جہاں میونسپل سروسز کا ذمے دار عوام کو جوابدہ منتخب کونسلر یا یوسی چیئرمین ہوتا ہے ؟۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم کے مشیر نے یہ کہہ کر جان چھڑالی کہ گٹر پر ڈھکن لگانے کی ذمے دار وزیراعلیٰ نہیں بلکہ یونین کونسل ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اس یونین کونسل کا منتخب چیئرمین کیوں نہیں؟ ،اختیارات کا مرکز و محور ایک خاندان کیوں ہے ؟ ،پاکستان کو اداکاری کی نہیں نئے نظام کی ضرورت ہے ، تمام اختیارات ایک خاندان کے ہاتھ میں رکھنے کا نظام اب بدلنا ہوگا۔اس سے قبل منصورہ کی جامع مسجد میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے سود پر مبنی قومی معیشت، آئی پی پیز سے مہنگے معاہدوں ، افسر شاہی کے تسلط، سیاسی پارٹیوں میں خاندانی اجارہ داری ، کراچی اور سندھ کی تباہ کن صورتحال اور پنجاب میں عوام دشمن بلدیاتی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے قوم سے اپیل کی کہ فرسودہ نظام کی تبدیلی کی جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ وہ غزہ فوج بھیجنے کے مسئلہ پر سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے رہنماؤں سے رابطے کریں گے ، جماعت اسلامی کو غزہ فوج بھیجنے کا فیصلہ کسی صورت قبول نہیں۔حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کا غزہ فوج بھیجنے پر موقف قابل ستائش ہے ، جماعت اسلامی اس کی تحسین کرتی ہے ، دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی غزہ فوج بھیجنے کی مخالفت میں کھل کر سامنے آئیں۔انکا کہنا تھا کہ قومی پالیسی کے انحراف پر مبنی حکمرانوں کا یکطرفہ فیصلہ قوم کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں