معیشت ہی وہ گوند جو حکومت اور ریاست کو جوڑے ہوئے ہے
دفاع ، معیشت اور خارجہ معاملات پر اہم فیصلے مشاورت سے ہو رہے ہیں
(تجزیہ: سلمان غنی)
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلیٰ کاروباری شخصیات اور ایکسپورٹرز کی تقریب میں حکومت اور فوج کی پارٹنر شپ کو مضبوط پاکستان کی نوید قرار دینے کا اعلان حقیقت پسندانہ ہی نہیں اب سٹیٹ مینجمنٹ کیلئے ناگزیر ہی سمجھا جا سکتا ہے جس کا واضح مقصد یہ ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں حکومت اور ریاست کے درمیان پالیسی میں ہم آہنگی ہے اور معیشت، دفاع اور خارجہ معاملات پر اہم فیصلے باہمی مشاورت سے ہو رہے ہیں اور یہی سلسلہ پاکستان کو آگے لے جانے اور خصوصاً ملکی معاشی ترقی کے عمل اور استحکام کا باعث بنے گا ۔لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ حکومت اور فوج کے درمیان انڈر سٹیڈنگ کی بنیاد کیا ہے ، شراکت داری کا یہ عمل کس حد تک پائیدار ہے اور اس کے نتیجہ میں ملک کا سیاسی معاشی مستقبل کیا ہو سکتا ہے ۔
مسلم ن کی سیاست میں شہباز شریف ہی وہ اہم کردار رہے ہیں جو شروع سے ہی اداروں سے مخاصمت کے بجائے مفاہمت کے علمبردار رہے ہیں اور وزیراعلیٰ سے وزیراعظم بننے تک ان کا عمل اسی پالیسی کا آئینہ دار ہے ۔وزیراعظم شہباز شریف مشکل صورتحال کے باوجود بڑے فیصلوں میں اپنے بڑے بھائی کی رائے کو بھی اہمیت دیتے ہیں اور ریاست اور اداروں میں بھی اپنا اعتماد برقرار رکھے ہوئے ہیں اور آج کی صورتحال میں اگر اس تلخ حقیقت کا اظہار کیا جائے تو یہ بے جا نہ ہوگا کہ شہباز شریف کی حکومت کی اصل طاقت ان کی سیاست سے زیادہ حکومت اور ریاست کے درمیان انڈر سٹیڈنگ ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس میں کمی آنے کے بجائے اس میں اضافہ ہوا ہے اور وہ بھارت کے خلاف چار روزہ جنگ کا اصل کریڈٹ بھی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو دیتے ہوئے ہر اہم جگہ اور موقع پر اس کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں اور عالمی سطح پر بھی فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو ملنے والی پذیرائی کو محسوس کرنے کے بجائے اس پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے جہاں تک معاشی معاملات کے حوالہ سے حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف کی اصلاحات اور اقدامات کا تعلق ہے تو بلاشبہ پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے ،نادہندگی کے خطرات سے بچنے میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے بھی اپنا مثبت کردار ادا کیا ۔
آج کے حالات میں معیشت ہی وہ گوند ہے جو حکومت اور ریاست کو جوڑے ہوئے ہے اور آج جب دنیا میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں خطہ کے حالات میں بھی حرارت ہے تو ان کا بڑا تقاضا یہی تھا کہ پاکستان سے متضاد آوازیں نہیں آنا چاہئیں اور یہ اعزاز پاکستان کی موجودہ منتخب اور عسکری قیادت کو ہے کہ انہوں نے عالمی اور علاقائی محاذ پر اپنی بہترین اور قابل عمل پالیسی کے تحت حکومت اور فوج میں ون پیج کا عملی ثبوت فراہم کیا ہے ۔حکومت اور ریاست اہم ایشوز پر باہم مل کر آگے بڑھے اور خوشگوار انداز میں چلتے نظر آ رہے ہیں اور یہی وہ پریشانی ہے جس نے اپوزیشن کی حیثیت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اپوزیشن کے لئے مسلح افواج کے غیر جانبدار رہتے ہوئے سیاسی استحکام کے لئے کوششوں کا عمل ان کیلئے بھیانک خواب سے کم نہیں لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ حکومت اور ریاست کا اتحاد کوئی رومانوی اتحاد نہیں ملکی حالات نے انہیں باہم جوڑ رکھا ہے اور وہ ایک دوسرے سے مطمئن نظر آتے ہیں۔
نہ فوج سیاسی معاملات میں پھنسنا چاہتی ہے اور نہ حکومت ٹکراؤ کی متحمل ہو سکتی ہے جہاں تک اس شراکت داری کے مستقبل کا سوال ہے تو فی الحال یہی کہا جا سکتا ہے کہ فی الحال تو اس میں دراڑ کا امکان نظر نہیں آتا اور مستقبل میں بھی اب قومی سیاست کسی بڑی محاذ آرائی اور تناؤ کا شکار بنتی دکھائی نہیں دے رہی البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اب پاکستانی سیاست میں کسی کے سولو پرواز کا کوئی امکان نظر نہیں آتا اور اس کی وجہ بعض سیاستدانوں کا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ریاستی اداروں پر اثر انداز ہونے کی اندھی خواہش اور خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھنے کا رجحان بنا ہے اور اس کی وجہ سے ملک میں سیاست کمزور ہوئی ہے اور مذکورہ صورتحال نے ہی ملک میں ایک ایسا حکومتی بندوبست یقینی بنایا ہے۔
جس میں سیاسی قوتیں اور اسٹیبلشمنٹ مل کر ملک کو چلانے اور استحکام کی منزل پر لے جانے کے لئے سرگرم ہیں اور حقیقت یہی ہے کہ اس شراکت داری کے عمل کے باعث ملک نادہندگی کے خطرات سے نکلا ،بھارت جیسے ازلی دشمن کو منہ کی کھانا پڑی، دنیا بھر میں پاکستان کی سفارتی و سیاسی حیثیت بنی اور علاقائی محاذ پر آج دہلی کے مقابلہ میں اسلام آباد کا کردار نمایاں نظر آ رہا ہے اور مہنگائی بے روزگاری کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عوام کسی احتجاجی تحریک یا مزاحمتی بیانیہ کا ساتھ دینے کے لئے بے چین ہیں ۔سیاسی تاریخ کو سامنے رکھا جائے تو حکومت اور مقتدرہ میں براہ راست ٹکراؤ نہیں ہوتا بلکہ غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جو دونوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیتی ہیں اور اب تک کی صورتحال میں بڑا کریڈٹ منتخب اور عسکری قیادت کا ہی ہے کہ انہوں نے غلط فہمیوں کا سلسلہ بننے دیا نہ ہی چلنے دیا۔ ماضی میں جب غلط فہمیاں شروع ہوتی تھیں تو طاقتور ادارے تعلق نہیں توڑتے تھے بلکہ پیچھے ہٹ جاتے تھے اور یہی سب سے بڑا اشارہ ہوتا ہے لیکن اگر حکومتی اور سیاسی محاذ پر نظر دوڑائی جائے تو ریاست اور ادارے حکومت کی پشت پر کھڑے نظر آتے ہیں اور اس کی بڑی وجہ خود وزیراعظم ہیں اس لئے کہ وہ ٹکراؤ کے خواہاں نہیں اداروں کو ٹارگٹ نہیں کرتے اور خود کو ناگزیر اور انقلابی کے بجائے منیجر کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔