چیئرمین نیب کوتوسیع دینے کی تجویز،بل سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع

چیئرمین نیب کوتوسیع دینے کی تجویز،بل سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع

50کروڑکی بجائے 30کروڑ تک کرپشن کیسزبھی نیب کے دائرہ اختیارمیں ہونگے ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کرنے کی ترمیم بھی شامل

اسلام آباد (وقار علی سید)چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع سے متعلق نیب آرڈیننس میں مجوزہ اہم ترامیم پر مشتمل بل سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرا دیا گیا۔ نیب ایکٹ میں ترمیم کا یہ بل بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر عبدالقادر کی جانب سے بطور پرائیویٹ ممبر پیش کیا گیا ہے ، جسے آئندہ ہفتے سینیٹ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے ۔ترمیمی بل کے مطابق نیب کے دائرہ اختیار کو مزید وسیع کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ اس ضمن میں نیب ایکٹ کے سیکشن 5 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے ، جس کے تحت پچاس کروڑ روپے کے بجائے تیس کروڑ روپے تک کے کرپشن کیسز نیب کے دائرہ اختیار میں آئیں گے ۔

اسی طرح سیکشن 6 میں مجوزہ ترمیم کے مطابق موجودہ چیئرمین نیب کی مدت مکمل ہونے کے بعد نئے چیئرمین کی تقرری تک موجودہ چیئرمین اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے ، جبکہ سیکشن 7 میں ترمیم کے تحت چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین نیب کی مدت کو ناقابلِ توسیع کے بجائے قابلِ توسیع بنانے کی تجویز دی گئی ہے ۔مزید برآں ایک اور اہم ترمیم کے ذریعے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ کے بجائے تیس روز کے اندر وفاقی آئینی عدالت میں دائر کی جا سکے گی۔ذرائع کے مطابق سینیٹ کا اجلاس پیر سے شروع ہو رہا ہے اورسینیٹر عبدالقادر نیب ایکٹ میں ترامیم کا یہ بل باضابطہ طور پر ایوان میں پیش کریں گے ۔ واضح رہے کہ موجودہ نیب قانون کے تحت چیئرمین نیب کی دوبارہ تقرری کی اجازت نہیں، تاہم مجوزہ ترامیم کی منظوری کے بعد موجودہ چیئرمین نیب کو دوسری مدت کے لیے دوبارہ مقرر کیے جانے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں