قائمہ کمیٹی خارجہ امور میں سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر غور
مسئلہ کشمیر پر چین کامؤقف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق :وزارت خارجہ حکام ایک سال میں چین کیساتھ200ایم اویوزپر دستخط ،2ارب ڈالر سرمایہ کاری متوقع
اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خارجہ امور کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں پاکستان اور چین کے تعلقات، علاقائی صورتحال اور اقتصادی سفارتکاری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ،اجلاس میں سی پیک کی سٹر ٹیجک اہمیت اس کی اپ گریڈیشن اور افغانستان تک توسیع پر بھی غور کیا گیا ،اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے کی جبکہ وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام سیکرٹری خارجہ کی قیادت میں شرکت کی ۔اجلاس میں کمیٹی کو پاک چین تعلقات پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ پاکستان ون چائنا پالیسی پر مکمل طور پر قائم ہے اور تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور جنوبی بحیرہ چین سے متعلق چین کے مؤقف کی حمایت جاری رکھے گا۔
کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق قرار دیا گیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مکالمے کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے ، بالخصوص ایران اور خلیجی خطے سے متعلق معاملات میں انہوں نے پاکستان کو مشرق و مغرب کے درمیان پل قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی استحکام ملکی امن اور معاشی ترقی کا باعث بنتا ہے ، کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال میں چین کے ساتھ تقریباً 200 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے جن کے نتیجے میں دو ارب ڈالر تک سرمایہ کاری متوقع ہے ۔چیئرمین کمیٹی نے اہم تجارتی شراکت دار ممالک، آزاد تجارتی معاہدوں ، کاروباری سہولت کاری کے طریقہ کار پر تفصیلات طلب کیں اور منصوبہ بندی ڈویژن کے ساتھ مشترکہ اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔