آبی گزر گاہوں پر560تجاوزات تاحال برقرار،سندھ کی صورتحال تشویشناک

آبی  گزر گاہوں پر560تجاوزات تاحال برقرار،سندھ کی صورتحال تشویشناک

پنجاب آپریشن میں سرفہرست،سندھ میں 164 کی نشاندہی ، صرف 6 کاخاتمہ ،بلوچستان حکومت نے ڈیٹاہی نہیں دیا پختونخوا میں 377تجاوزات کی نشاندہی ،251تاحال برقرار ، مجموعی طور پر3249کی نشاندہی کی گئی :دستاویزات

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) گزشتہ سیلابی صورتحال کے باعث ملک بھر میں آبی گزرگاہوں اور فلڈ چینلز پر قائم تجاوزات کے خاتمے کے لیے آپریشن کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ابھی تک دریاؤں اور آبی گزرگاہوں پر سینکڑوں تجاوزات برقرار ہیں۔ روزنامہ دنیا کو دستیاب  سرکاری دستاویز کے مطابق پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں دریاؤں اور آبی گزرگاہوں پر ابھی تک 560 تجاوزات کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ مجموعی طور پر 3249 تجاوزات کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں سے 2689 کو ہٹا دیا گیا ہے ۔ پنجاب تجاوزات کے خلاف آپریشن میں سرفہرست رہا، جہاں 2708 تجاوزات رپورٹ ہوئیں اور ان میں سے 2557 کو ختم کر دیا گیا، تاہم ابھی بھی 151 کیسز باقی ہیں۔ اس کے برعکس سندھ میں صورتحال تشویشناک ہے ، جہاں 164 تجاوزات کی نشاندہی کے باوجود صرف 6 کو ہٹایا جا سکا اور 158 ابھی تک موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 377 تجاوزات رپورٹ ہوئیں، جن میں سے 126 کو ختم کیا گیا جبکہ 251 کیسز تاحال حل طلب ہیں۔ بلوچستان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ابھی تک اس کے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے ۔ یہ تجاوزات آبی گزر گاہوں اور دریائوں پر بنائی گئی تھی جو کہ مون سون میں سیلاب اور تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ فیڈرل فلڈ کمیشن کاکہنا ہے کہ دریاؤں اور برساتی نالوں پر قائم تجاوزات کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، سپارکو کی نشاندہی کردہ مقامات پر قائم غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کے عمل کی باقاعدگی سے نگرانی ہوتی ہے ۔ سرکاری دستاویز کے مطابق صوبوں سے تجاوزات کے خاتمے سے متعلق تازہ رپورٹس مسلسل حاصل کی جا رہی ہیں اور ان کا جائزہ لے کر مزید کارروائی کے لیے فالو اَپ کیا جا رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں