بھاٹی چوک واقعہ، تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین نااہلیوں کا انکشاف
ٹیپا، واسا، ریسکیو 1122 اور پارکنگ کمپنی کے سربراہوں کی شدید غفلت واضح شہر کے کئی مقامات پر واقعہ کی وجہ بننے والی صورتحال موجود :فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی
لاہور(محمد حسن رضا)داتا دربارکے قریب بھاٹی چوک میں ماں اور بیٹی کے مین ہول میں گرنے کے دلخراش واقعہ سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں سنگین غفلتوں، نااہلیوں اور غلط بیانیوں کا انکشاف سامنے آ گیا ۔ ذرائع کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اب تک 12 افسروں ، 27 ملازمین، 11 اہلکاروں سمیت عینی شاہدین اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کر لئے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کی واضح نشاندہی کی جائے گی کہ کس ادارے اور کس افسر نے اپنی ذمہ داری میں غفلت برتی۔ کمیٹی ذرائع کے مطابق ٹیپا، واسا، ریسکیو 1122 اور پارکنگ کمپنی کے سربراہوں کی شدید غفلت سامنے آئی ہے ۔
ایم ڈی واسا غفران احمد کی جانب سے واقعہ کے فوراً بعد قبل از وقت بیان دیا گیا جو نہ صرف حقائق کے منافی تھا بلکہ اس نے معاملے کو مزید الجھا دیا۔ رپورٹ میں ایم ڈی واسا کی جانب سے انتہائی غفلت کا ذکر کیا گیا ہے ۔ ٹیپا اور نیسپاک دونوں کی غفلت بھی ثابت ہوئی جبکہ انکشاف ہوا ہے کہ شہر کے کئی دیگر مقامات پر بھی اسی نوعیت کی خطرناک صورتحال موجود ہے جو المناک واقعہ کا سبب بنی ۔ کمیٹی نے ریسکیو 1122 کی انتہائی ناقص پلاننگ اور نااہلی کی بھی نشاندہی کی ، ریسکیو نے تاخیر سے ایکشن لیا ۔ پولیس افسروں اور اہلکاروں کے بیانات میں انکشاف ہوا کہ خاتون کے شوہر پر شدید تشدد کیا گیا اور ابتدائی طور پر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔
واسا کی جانب سے فراہم کی جانے والی غلط معلومات نے بھی تحقیقات اور ریسکیو آپریشن کو شدید نقصان پہنچایا ۔پارکنگ کمپنی کی شدید بدانتظامی اور نااہلیاں بھی رپورٹ کا حصہ ہیں ۔ ایم ڈی پارکنگ کمپنی نوید اسلام ورک کی عدم پلاننگ اورکوئی مؤثر نظام نہ ہونے کی سنگین کوتاہیاں سامنے آئیں۔ٹیپا کی جانب سے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث مین ہول کھلا رہا، جس کے نتیجے میں ماں اور بیٹی اس میں گر گئیں۔ متعلقہ اتھارٹیز اور واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی کے سربراہوں نے نہ تو مؤثر مانیٹرنگ کی اور نہ ہی کبھی موقع کا دورہ کیا۔