بلوچستان میں سکیورٹی ہائی الرٹ،ڈبل سواری پر پابندی،موبائل،انٹرنیٹ سروس بند:دہشتگردوں کی145لاشیں ہمارے پاس موجود:سرفراربگٹی
اسلحہ کی نمائش،کالے شیشوں والی اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں ،5افراد کے اجتماع ، ریلیوں ، دھرنوں پربھی پابندی،ٹرین سروس معطل،ڈی جی خان سے بلوچستان جانیوالاراستہ بند ضلع کچھی میں ہائی ٹرانسمیشن لائن دھماکے سے تباہ ، ہمارا خون سستا نہیں،جنگ بھارتی پراکسیز کیخلاف ، ہم بلوچستان کو دہشتگردوں کیلئے جہنم بنا دینگے :وزیراعلیٰ،پریس کانفرنس
کوئٹہ ،اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،خصوصی رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں)بلوچستان میں دہشت گردی کے مختلف واقعات کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ،صوبہ بھر میں دفعہ 144 کے تحت موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد جبکہ موبائل فون اورانٹر نیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے ۔وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے ساتھ مقابلے میں 17سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ، 145 دہشت گردوں کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں،افغان سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے ،ہم ایک سیکنڈ کیلئے بھی سرنڈر کرنے کو تیار نہیں ، ہم ایک ہزار سال تک ان کے خلاف جنگ لڑیں گے ،ہمارا خون سستا نہیں ہے ، ہم انہیں جانے نہیں دیں گے ، ہم بلوچستان کو ان کیلئے جہنم بنا دیں گے ۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے 12 مختلف واقعات کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی،دارالحکومت کوئٹہ کے پوش علاقوں کے راستے سیل کر دئیے گئے جبکہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں ، شہر بھر میں سکیورٹی اہلکاروں کا گشت جاری ہے ، کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران درجنوں مشکوک افراد کو حراست میں لے لیاگیاہے ۔
صوبہ بھر میں دفعہ 144 کے تحت موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ موبائل فون اورانٹر نیٹ سروس بھی بندہے ۔ دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش ، کالے شیشوں والی اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں پر بھی پابندی ہوگی ، اس کے علاوہ 5 یا 5 سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔عوامی مقامات پر چہرے کو مفلر یا کسی اور چیز سے ڈھانپنا ممنوع ہوگا ، ان پابندیوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔دہشت گردی کے واقعات کے بعد بلوچستان میں ریل اور مسافر کوچز سروس معطل کر دی گئی تھی جو بتدریج بحال کی جارہی ہے ۔ڈیرہ غازی خان میں پنجاب سے بلوچستان جانے والے تمام راستے بند کردئیے گئے ، بلوچستان سے ملنے والے سرحدی علاقے بواٹہ اور سخی سرور کے مقام پر ٹریفک کو روک دیا گیاہے ۔
ڈپٹی کمشنر ڈی جی خان کے مطابق بلوچستان جانے والی شاہراہ براستہ فورٹ منرو اور تونسہ موسیٰ خیل روڈ بند کر دی گئی ہے ، کوئٹہ سے اندرون ملک اور چمن کیلئے ٹرین سروس دوسرے روز بھی معطل رہی ، پشاور کیلئے جعفر ایکسپریس اور چمن کے لیے مسافر ٹرین روانہ نہیں ہوئیں۔دوسری طرف ضلع کچھی کے حاجی شہر پولیس تھانے کی حدود لمجی کے مقام پر گزشتہ شب نا معلوم تخریب کاروں نے ڈیرہ مراد جمالی اوچ پاور پلانٹ سے سبی گریڈسٹیشن کو جانے والی بجلی ہائی ٹرانسمیشن لائن 220 کے وی کے ٹاور کو دھما کا خیز مواد سے اڑا دیا ، جس سے بجلی ٹاور کو شدید نقصان پہنچا ،سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی پر دہشت گرد فرار ہوگئے ۔وزیراعلیٰ سرفرا زبگٹی نے پریس کانفرنس میں کہاکہ بلوچستان میں ریاست نے کبھی طاقت کا بے جا استعمال نہیں کیا جبکہ دہشتگرد معصوم بچوں تک کو دہشتگردی کیلئے استعمال کر رہے ہیں، سکیورٹی فورسز نے ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ کارروائیاں کرتے ہوئے صوبے کو ایک بڑے المیے سے بچا لیا ہے ۔
سرفراز بگٹی نے شہدا اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹس سے واضح ہو چکا تھا کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر دہشتگرد حملوں کی سازش کی جا رہی ہے جس پر خفیہ اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز نے آپریشن شروع کر دئیے تھے ۔ شعبان اور پنجگور میں 40 دہشتگرد مارے گئے جبکہ گزشتہ 40 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 145 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جن کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں۔ ایک سال کے دوران 1500 سے زائد دہشتگردوں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب بھی پاکستان ترقی کرتا ہے بھارت سازشوں پر اتر آتا ہے کیونکہ وہ خطے میں پاکستان کی اہمیت کو کمزور کرنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ کالعدم بی ایل اے کوئی سیاسی جماعت نہیں جس سے مذاکرات کئے جائیں بلکہ یہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتی ہے اور محرومی کے نام پر جنگ مسلط کر رہی ہے ۔ دہشتگرد عام شہریوں میں شامل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں، مگر ریاست ذمہ دار ہے اور اپنے ہی شہریوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ہم بلوچستان کو امن کی طرف لے کر جائیں گے ، دہشتگردوں کے آگے سر نہیں جھکائیں گے ۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بھارتی پراکسیز کے خلاف ہے اور احتجاج کے نام پر سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا کہ رحمان گل آج بھی افغانستان میں موجود ہے اور افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے جبکہ ان کارروائیوں میں افغان باشندے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی کوئی قوم یا قبیلہ نہیں ہوتا، بلوچ خواتین کو ایندھن بنانے والوں پر لعنت ہے ۔ وزیراعلی نے بتایا کہ دہشتگردوں نے سیف سٹی کیمروں کو بھی نشانہ بنایا۔ 2018 کے بعد دہشتگردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا اور اسی دوران بلوچستان سے متعدد چیک پوسٹیں بھی ختم کی گئیں۔قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ، وزیراعلٰی سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر بلوچستان نے گزشتہ روز سی ایم ایچ کوئٹہ میں زخمی پولیس اہلکاروں کی عیادت کی۔ محسن نقوی نے کہا کہ آپ نے شیروں کی طرح دہشتگردوں کے حملوں کا مقابلہ کیا اورانہیں ناکام بنایا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش ناکام بنانے پر آپ کی جرأت کو سلام پیش کرتا ہوں،آپ ہمارے شیر ہیں اورقوم آپ کے ساتھ ہے ۔