فورسز نے بروقت کارروائیوں سے حملے ناکام بنائے :طلال

 فورسز نے بروقت کارروائیوں سے حملے ناکام بنائے :طلال

وفاقی وزیرِ داخلہ کا دور ہ کوئٹہ ثابت کرتا ہے وہاں حالات معمول کے مطابق ہیں وادیٔ تیراہ کے مسائل دہشت گردی نہیں ، صوبائی حکومت کی ناکامی ہے :گفتگو

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیرِ مملکت برائے امورِ داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت پوری قوت سے کارروائیاں جاری ہیں ، ریاستِ پاکستان زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے ،حالیہ دنوں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں نے سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مو ثر کارروائیوں کے ذریعے ان حملوں کو ناکام بنایا، بلوچستان میں امن بحال  ہو رہا ہے ، انشاء اللہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا ۔فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ دہشت گردوں نے کسی شہر یا علاقے پر قبضہ کیا ،کارروائیوں کے دوران متعدد دہشت گرد ہلاک اور گرفتار کئے گئے جبکہ فرار ہونے والوں کا تعاقب جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال بنایا جس کے باعث سکیورٹی فورسز نے انتہائی احتیاط کے ساتھ کارروائیاں کیں تاکہ بے گناہ شہری محفوظ رہیں۔

طلال چودھری نے کہا کہ خود کو بلوچ حقوق کا علمبردار کہنے والی تنظیموں نے سکولوں، ہسپتالوں، بازاروں، منڈیوں اور بینکوں کو نشانہ بنایا، جو ان کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتا ہے ، سوشل میڈیا اور خصوصاً بھارتی میڈیا پر بلوچستان کے حوالے سے منظم، جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈا کیا گیا،بی ایل اے سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف شواہد عالمی برادری کے سامنے پیش کئے گئے جس کے بعد انہیں بین قرار دیا گیا۔طلال چودھری نے کہا کہ وفاقی وزیرِ داخلہ کے دور ہ کوئٹہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بلوچستان میں حالات معمول کے مطابق ہیں اور حکومت مکمل طور پر چوکس ہے ،دہشت گرد عناصر بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ وزیرِ مملکت نے وادیٔ تیراہ کے حوالے سے کہا کہ وہاں کے مسائل دہشت گردی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ناکامی اور وعدوں کی عدم تکمیل کا نتیجہ ہیں ،نو سال گزرنے کے باوجود ہسپتال، تھانے اور سکول نہ بننا پختونخوا حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں