پاکستان کے آبی ذخائر ریت، مٹی سے بھر گئے گنجائش میں 72لاکھ ایکڑ فٹ کمی
تربیلا ڈیم میں 53لاکھ، منگلا ڈیم میں 17فیصد اور چشمہ بیراج میں بھی پانی ذخیر ہ کی گنجائش نمایاں کم ہو گئی سلٹنگ کے باعث مؤثر ڈی سلٹنگ مشکل ہوگئی، ریت اور بجری ڈیمز کی جانب بڑھنے سے نقصان کا خدشہ
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)پاکستان کے تین بڑے آبی ذخائر میں سلٹنگ کے باعث پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ۔ وزارتِ آبی وسائل کی دستاویزات کے مطابق تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم اور چشمہ بیراج میں پانی ذخیر ہ کی گنجائش72لاکھ ایکڑفٹ تک کم ہو گئی ، ان تینوں آبی ذخائر کی مجموعی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پہلے 2 کروڑ 12 لاکھ ایکڑ فٹ سے زائد تھی جو اب تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ ایکڑ فٹ رہ گئی ہے ، یعنی 34 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔تربیلا ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 45 فیصد کمی آ چکی ہے جو پہلے 1 کروڑ 16 لاکھ ایکڑ فٹ تھی اور اب تقریباً 63 لاکھ ایکڑ فٹ رہ گئی ۔ منگلا ڈیم کی صلاحیت میں 17 فیصد اور چشمہ بیراج میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ماہرین کے مطابق تربیلا ڈیم کی ڈی سلٹنگ اب ممکن نہیں رہی کیونکہ ڈیم کے پیچھے جھیل میں کئی کلومیٹر تک ریت اور بجری جمع ہو چکی ہے اور اگر اسے ڈیم کی جانب بڑھنے دیا گیا تو نقصان کا خدشہ ہے ۔ اسی طرح منگلا ڈیم کی اپ ریزنگ کے بعد مؤثر ڈی سلٹنگ بھی مشکل ہو گئی ہے ۔ان ڈیموں پر پاکستان کی وسیع زرعی زمینوں کی آبپاشی کا انحصار ہے جبکہ قومی بجلی کے گرڈ میں بھی ان کا اہم حصہ شامل ہے ۔