کراچی پر جتناظلم ہوسکتاتھا ہوچکا،شہربارود کے ڈھیرپر:متحدہ

کراچی پر جتناظلم  ہوسکتاتھا ہوچکا،شہربارود کے ڈھیرپر:متحدہ

وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل شہر کا فیصلہ کرائیں:خالد مقبول، کامران ٹیسوری

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ دادرسی نہیں کرسکتے تو یہ گورنر ہاؤس کرے گا، وزیراعظم، وزیر اعلیٰ ہاؤس کو متنبہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن ان سے کوئی امید نہیں رکھی جاسکتی۔جبکہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو اب شہر کا فیصلہ کرانا چاہیے ۔گورنر ہاؤس میں سانحہ گل پلازہ کے متاثرین سے متعلق تقریب کا انعقاد ہوا، جس میں فاروق ستار، علی خورشیدی سمیت اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، گل پلازہ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا، تاجر رہنما جاوید بلوانی، زبیر موتی والا سمیت دیگر بھی شریک ہوئے ۔ چیئرمین ایم کیوایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کاکہناتھا کہ یہ شہر جن کا ہے نہیں وہ یہاں سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جتنا ظلم ہوسکتا تھا اس شہر پر ہوچکا ہے ، وہ چاہتے ہیں یہ شہر بیروت بن جائے ، ایم کیو ایم کے ہوتے ہوئے کوئی اسے بیروت تو بنا سکتا ہے لیکن بے غیرت نہیں بناسکتا، یہ شہر بارود کے ڈھیر پر بسا ہوا ہے ، سانحات، واردات، حق تلفیوں کے بارود بچھا رکھے ہیں اس شہر میں، اب کوشش ہے کہ یہ شہر ملبے کا ڈھیر بن جائے ۔

انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا وی وی آئی پی وہ ہوتا ہے جو ٹیکس دیتا ہے ، اس شہر میں اب انہی ٹیکس والوں کو جلا کر عمارتوں میں دفن کیا جا رہا ہے ، گل پلازہ کے متاثرین کو گورنر سندھ اور ایم کیو ایم مل کر پلاٹ دے گی،مسئلہ فائر ٹینڈر کے پانی کا نہیں حکمرانوں کی آنکھوں کے پانی کا ہے ، ایم کیو ایم کے جب بھی میئر آئے اسی دور میں فائر ٹینڈرز آئے ، کراچی کے فائر ٹینڈرز دادو ، سکھر لاڑکانہ میں ان حکمرانوں کی اوطاقوں میں کھڑے ہیں۔خالدمقبول نے مزید کہا کہ بلوچستان میں بھارتی اسپانسرز دہشت گردوں نے جو خاک و خون کا کھیل جاری رکھا ہے اس کی مذمت کرتے ہیں۔گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ یہاں سے جو ٹیکس لیا جاتا ہے اس کا 5 فیصد بھی یہاں نہیں لگایا جاتا، اگر ہماری آواز اس سانحے پر بلند نہ ہوتی تو لواحقین کا کام آسان نہیں ہوتا، آج تقریب میں سب لوگ دھوپ میں بیٹھے ہیں جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ گل پلازہ میں لوگ آگ کی تپش سے کیسے مر گئے ،ہم نے بلڈرز سے بات کی ہے ، لواحقین کو مفت پلاٹ دیں گے ،گل پلازہ کی آگ کے ہم سب ذمہ دار ہیں، یوسی ناظم، ٹاؤن ناظم اور میئر کراچی سب ذمہ دار ہیں،جماعت اسلامی کے نو ٹاؤنز ہیں، ایم کیو ایم کے بائیکاٹ سے آپ کامیاب ہوئے ،آپ ہماری طرح آواز بلند کریں، آج شارع فیصل پر اسٹیج لگایا جارہا ہے آپ اپنے نو ٹاؤنز کا حساب دیں، تختی لگانی ہو تو یہ پہنچ جاتے ہیں ،ہمیں تو اب پتا لگا کہ یہ بھی لیز کے معاملات میں شامل ہیں، فاروق ستار سے پہلے لیز انہوں نے دی تھی۔

انہوں نے کہا کے پی سے وزیر اعلیٰ کراچی آگئے اور کہا کراچی ہمارا ہے ، گل پلازہ میں لوگ مر گئے اب نہیں کہہ رہے کہ کراچی ہمارا ہے ، اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھ جاتے ہیں مگر گل پلازہ کے باہر نہیں بیٹھتے ۔فاروق ستار نے کہا خالد مقبول کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ ان کی ہدایت پر اس سانحے پر سب سے پہلے گورنر سندھ پہنچے ، فارنزک لیبارٹری پانچ سال سے کیوں نہیں بن پائی؟ پی ڈی ایم اے سانحے پر کہاں غائب تھی؟ دروازے اور دیوار توڑ کر لوگوں کو کیوں نہیں بچایا جاسکا؟ کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہے ۔زبیر موتی والا نے کہا صدر پاکستان،وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، گورنر سندھ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، ہم فائر سیفٹی کے حوالے سے بھی تربیت کا کام کررہے ہیں ۔تنویر پاستا نے کہا گورنر سندھ نے یقین دلایا کہ جب تک ہمارے تاجر بحال نہیں ہوتے وہ ہر قدم پر ساتھ ہیں ۔جے ڈی سی کے سربراہ ظفر عباس نے کہا میری کوشش ہے متاثرین کے لیے آواز بلند کروں، میں نے کہا تھا آگ جس طرح بجھائی جارہی تھی وہ عمارت گرنے کا انتظار کیا جارہا تھا۔مولانا بشیرفاروقی نے کہا گورنر سندھ وہ کام کراسکتے ہیں جو ماضی میں کسی نے نہیں کیا، ایسا سیل قائم کریں جہاں ہر شخص کی فریاد پہنچے ، متاثرین کو گھر کے اخراجات کے لیے سیلانی جو کردار ادا کرسکتا ہے کررہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں