زیریں سندھ:قیمتیں گرنے سے پیاز کھیتوں میں سڑنے لگا

زیریں سندھ:قیمتیں گرنے سے پیاز کھیتوں میں سڑنے لگا

ایک من کی بوری 500 روپے میں فروخت، اخراجات پورے کرنا بھی دشوار کاشتکار طبقہ پریشان، فصلوں کی قیمتوں کے تعین کیلئے مؤثر پالیسی بنانے کی اپیل

پنگریو (نامہ نگار)پنگریو اور زیریں سندھ کی منڈیوں میں پیاز کی قیمتیں زمین بوس، کاشتکار شدید بحران کا شکار۔فی من بوری صرف پانچ سو روپے میں فروخت، کھیت سے منڈی تک کا خرچ بھی پورا نہ ہونے پر فصلیں تلف کرنے پر مجبور۔زیریں سندھ کے مختلف علاقوں کی سبزی منڈیوں میں نرخوں میں غیر معمولی کمی سے کاشتکار مالی بحران کا شکار ہیں۔ کھیت سے منڈی تک پیاز پہنچانے کا خرچ بھی پورا نہیں ہو رہا، جس کے باعث کئی مقامات پر پیاز کی فصلیں کھیتوں میں ہی خراب ہونا شروع ہوگئی ہیں۔مقامی منڈیوں میں اس وقت ایک من پیاز کی بوری محض پانچ سو روپے میں فروخت ہو رہی ہے ، جو کہ پیداواری لاگت کے مقابلے میں نہایت کم ہے ۔

کاشتکاروں کے مطابق بیج، کھاد، زرعی ادویات، پانی، مزدوری اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں، جبکہ موجودہ قیمتیں ان تمام اخراجات کا عشرِ عشیر بھی پورا نہیں کر رہیں۔پیاز کے کاشتکاروں نے بتایا کہ فصل کی بوائی سے لے کر کٹائی اور پھر منڈی تک ترسیل تک ہزاروں روپے فی ایکڑ خرچ آتا ہے ، مگر منڈی میں انتہائی کم نرخ ملنے سے انہیں شدید نقصان کا سامنا ہے ۔  بعض کسانوں کا کہنا تھا کہ وہ پیاز کو منڈی لے جانے کے بجائے کھیتوں میں ہی چھوڑنے یا تلف کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ٹرانسپورٹ کا خرچ بھی واپس نہیں آتا۔کاشتکاروں نے حکومت اور متعلقہ زرعی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیاز سمیت دیگر فصلوں کی قیمتوں کے تعین کے لیے مؤثر پالیسی بنائی جائے تاکہ کسانوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ مل سکے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں