کوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیلئے واضح ٹائم لائن دینگے :آئینی عدالت

کوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیلئے واضح ٹائم لائن دینگے :آئینی عدالت

کوئٹہ کی دوہفتوں میں حلقہ بندیاں ہوسکتی ہیں:جسٹس روزی خان ،فیصلہ محفوظ

اسلام آباد(حسیب ریاض ملک)وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات اور حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ، کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اپنے فیصلے میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ٹائم لائن دیں گے اور سوال اٹھایا کہ اگر الیکشن کمیشن رضامندی دے تو کیا اپریل میں کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات کروائے جا سکتے ہیں،جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیئے کہ کوئٹہ صرف10کلومیٹر کا شہر ہے اور اتنا بڑا آفس ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن 10 کلومیٹر کے علاقے کی حلقہ بندیاں نہیں کر سکتا، جبکہ کوئٹہ کی حلقہ بندیاں تو دو ہفتوں میں بھی ہو سکتی ہیں، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ 2022 میں قانون میں تبدیلی کرکے کوئٹہ کو میٹرو پولیٹن سٹی قرار دیا گیا۔

ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن اس وقت پنجاب اور اسلام آباد میں بھی کام کر رہا ہے اور کوئٹہ کی حلقہ بندیوں کے لیے 90 روز درکار ہوں گے ، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا وعدہ بھی الیکشن کمیشن نے وفا نہیں کیا، الیکشن کمیشن نہ کرنے والی باتیں کر رہا ہے اور اسلام آباد میں الیکشن کروانے کا وعدہ تھا، یہاں تک کہ میں ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ اور پھر آئینی عدالت تک آیا مگر انتخابات نہ ہو سکے ۔ نمائندہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قانون تبدیل کر دیا جاتا ہے ، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا خدارا ایسے نہ کریں اور واضح کیا کہ اب پانچ سال تک اس مقدمے کو زیر التوا نہیں رکھا جائے گا۔ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں حکومت سے ہدایات لینے کے لیے مہلت دی جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں