26ویں،27ویں ترمیم کاتذکرہ نہ کریں:جسٹس محسن کیانی
مدرستہ المدارس،وفاق المدارس کی قانونی حیثیت کیاہے ،نمائندہ وزارت تعلیم سے استفسار منڈی میں نہیں کھڑے ، ایک لفظ بھی اوروکیل بارے مت بولیے گا،درخواست گزارپربرہم
اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے وزارت تعلیم سے وفاق المدارس کے فارغ التحصیل ملازمین کی برطرفیوں کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران 26ویں اور27 ویں ترامیم کے ذکر سے روک دیا۔دوران سماعت وزارت تعلیم کے حکام نے عدالت کو بتایاکہ وزیر اعظم کی جانب سے معاملہ ریپیلڈ(Repealed)( باقی کردیاگیا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا عدالت اس انتظار میں تھی کہ اس حوالہ سے باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی،مدرستہ المدارس اور وفاق المدارس کی قانونی حیثیت کیاہے ؟،ایک کروڑافراد مدارس سے وابستہ ہیں،جس پر وزارت تعلیم حکام نے کہا 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت انہیں سوسائٹی رجسٹریشن کے ذریعے رجسٹرڈ کیاگیا،جسٹس محسن اختر کیانی نے نمائندہ وزارت تعلیم سے کہا عدالت میں26 ویں اور 27 ترامیم کے الفاظ استعمال مت کریں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ ان اداروں کی بین الاقوامی سطح پر کوئی تسلیم شدہ حیثیت نہیں ہے ،وزارت تعلیم کو خود معلوم نہیں کتنے افراد کو بھرتی کیاگیا،عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔علاوہ ازیں جسٹس محسن اختر کیانی نے زمین تنازع کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار سے استفسار کیا آپکے وکیل کہاں ہیں؟ جس پر درخواستگزار نے جواب دیاکہ وکیل نہیں کیا یہ دوسری پارٹی سے جاکر مل جاتے ہیں،وکلاء کے پاس جاؤ تو کہتے ہیں اتنے پیسے دے دو پھر اعتبار بھی نہیں ہوتا، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ کسی منڈی میں نہیں کھڑے ،ایک لفظ بھی اور کسی وکیل کے بارے میں مت بولیے گا، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ وکیل کیخلاف بار کونسل میں جائیں درخواست دیں،الزام لگا رہے ہیں تو بار کونسل کو جاکر ثبوت دیں تا کہ بار کونسل انکے لائسنس کینسل کر دے ، عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔