خودکش دھماکہ افراتفری کی کوشش، ٹائمنگ اہم :نجم سیٹھی
داعش شیعہ کیخلاف ،ہماری سکیورٹی ایجنسیاں ٹی ٹی پی کیساتھ ا س پرفوکس کریں امریکا اور یورپ کیساتھ بیک چینل شروع کیاجائے ،’’آج کی بات سیٹھی کیساتھ‘‘
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کارنجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ترلائی امام بارگاہ میں خود کش حملہ ٹی ٹی پی نے نہیں کیا ، اس کی ذمہ داری داعش نے لی جو پہلے بھی ایسے حملے کرچکی ہے ،حملے کی ٹائمنگ بہت اہم ہے ، ایک طرف امریکا ایران کا مسئلہ چل رہا ہے ،اگر امریکا حملہ کرتاہے تو وہاں افراتفری ہو گی،داعش شیعہ کے خلاف ہے ،وہاں داعش افراتفری پھیلائے گی،پاکستان میں بھی افراتفری پھیلانے کی کوشش کی جائے گی کہ شیعہ سنی فسادات ہوں، امام بارگاہ پر حملہ بھی اسی کی کڑی ہے ،حملے کا فیصلہ داعش نے خودکیا ہے کیونکہ یہ کسی کے کنٹرول میں نہیں ، اسلام آباد میں حملہ اس وجہ سے کیا گیا تاکہ اس کے زیادہ اثرات پڑیں،سوال یہ ہے کہ کیا ہماری سکیورٹی ایجنسیاں داعش پر فوکس کررہی ہیں ؟، ہماری انفارمیشن کے مطابق بنیادی طور پر فوکس ٹی ٹی پی پرہے ۔ شمالی علاقہ جات میں بھی چینیوں پر دا عش نے حملہ کیا مگر پھر بھی ہماری طرف سے کوئی ایسی پیش قدمی نہیں ہوئی، جس سے ہمیں پتہ چلے کہ شاید ہمارا فوکس ٹی ٹی پی سے ہٹ کر دا عش کی طرف ارہا ہے ۔
امریکا داعش کو خطرہ سمجھتا ہے اور افغانستان میں داعش کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے ،ا س پر امریکا حملہ کیوں نہیں کرتا؟۔ ہماری سکیورٹی ایجنسیز کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ ٹی ٹی پی، داعش اور ٹی ٹی اے سب ملے ہوئے ہیں اوران کو بھارت کی سپورٹ حاصل ہے ،ان سب کو لگام ڈالنے کیلئے پاکستان کو امریکا کے ساتھ کوارڈینشن کرناچاہئے ،جس سے طالبا ن پر دباؤ بڑھے گا ،یہ واضح ہوگیا کہ داعش بھی پاکستان کے ہر شہر میں پہنچ سکتی ہے ۔نجم سیٹھی نے دنیانیوزکے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ ‘‘میں گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ترلائی خودکش حملے کے ماسٹر مائنڈ اورسہولت کار پکڑے گئے ،اگر 24گھنٹے میں گرفتاریاں ہوسکتی ہیں تو کیا پہلے اتنی مانیٹرنگ نہیں تھی کہ سانحہ روکا جاسکتا ؟۔ان کا کہناتھاکہ میں یہ سمجھتا ہوں اس وقت تھوڑی سی ڈپلومیسی کی ضرورت ہے ،امریکا یا یورپ کے ساتھ یا کسی کے ملک کے ساتھ،ان باتوں کو ایجنسیوں کو پتا ہونا چاہئے ، کچھ بیک چینل شروع ہونے چاہئیں،اگرایسا نہیں کرنا تو پھر اپ افغانستان میں رِجیم چینج کریں ۔