فضل الرحمن کا ہڑتال کی حمایت کرنا غیر معمولی اقدام

فضل الرحمن کا ہڑتال کی حمایت کرنا غیر معمولی اقدام

موجودہ پیشرفت مستقبل میں متحدہ اپوزیشن کے قیام کا پیش خیمہ بن سکتی ہے

(تجزیہ:سلمان غنی)

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اپوزیشن کی اپیل پر آج کی ہڑتال کی حمایت کو موجودہ حالات میں ایک غیر معمولی اور ہنگامی اقدام قرار دیا جا رہا ہے ۔ ماضی میں مولانا فضل الرحمن نہ صرف پی ٹی آئی کے سیاسی طرزِ عمل پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں بلکہ وہ اپوزیشن اتحاد کا حصہ بننے سے بھی انکاری رہے ۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ مولانا نے اپوزیشن کی ہڑتال کی حمایت کیوں کی؟ کیا یہ مشترکہ اپوزیشن کے قیام کی جانب پیش رفت ہے اور کیا اتوار کی ہڑتال مو ثر ثابت ہو سکے گی؟۔

مولانا فضل الرحمن کی جانب سے ہڑتال کی حمایت اس لیے بھی غیر متوقع سمجھی جا رہی ہے کہ سانحہ اسلام آباد کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت کی سرکاری سرگرمیاں ختم کرنے کے اعلان پر یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اپوزیشن شہدا اور ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ہڑتال کی اپیل مو خر کر دے گی۔ مگر اس کے برعکس مولانا کی حمایت نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ معاملہ محض احتجاج نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں کوئی بڑی سیاسی حکمتِ عملی کارفرما ہے ۔ اب اس ہڑتال کو مکمل طور پر اپوزیشن کی مشترکہ کال قرار دیا جا سکتا ہے ، جو مستقبل میں متحدہ اپوزیشن کے قیام کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔جہاں تک آج کی ہڑتال کے امکانات کا تعلق ہے تو خیبر پختونخوا کے سوا ملک کے دیگر حصوں میں اس کا ماحول نظر نہیں آ رہا۔ پنجاب میں امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں جبکہ سندھ اور بلوچستان میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔

ہڑتال کو صرف مبینہ انتخابی دھاندلی تک محدود رکھا گیا ہے جبکہ عوامی مسائل جیسے مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کو مو ثر انداز میں اجاگر نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن کے پاس اس وقت کوئی متحرک اور فعال قیادت بھی دکھائی نہیں دیتی، جس کے باعث یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہڑتال جزوی نوعیت کی ہوگی۔حکومتی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت اپوزیشن کے حوالے سے لچک دکھانے کے موڈ میں نظر نہیں آتی اور وہ ہڑتال کو ناکام قرار دینے کی حکمتِ عملی پر کاربند رہے گی۔تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن اس احتجاج کے ذریعے حکومت کی معاشی اور سیاسی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا پیغام دینے میں کامیاب ہو سکتی ہے ۔ جے یو آئی کی شمولیت سے یہ تاثر بھی ابھرے گا کہ مذہبی ووٹ بینک رکھنے والی جماعت بھی احتجاجی بیانیے کے قریب آ رہی ہے ، جس سے تاجروں، مدارس اور مذہبی حلقوں کی شمولیت بڑھ سکتی ہے ۔

البتہ جماعتِ اسلامی اپنی پالیسی کے مطابق کسی اتحاد کا حصہ بننے سے گریزاں ہے ۔مولانا فضل الرحمن کو ہمیشہ ‘‘کنگ میکر’’ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے اور وہ مستقبل کی سیاست میں اپنا کردار محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی تناظر میں ہڑتال کی حمایت کو ان کی سیاسی اہمیت اجاگر کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جا سکتا ہے ۔ ماہرین اس امکان کو بھی رد نہیں کر رہے کہ مستقبل میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے درمیان کسی حد تک مشروط یا محدود تعاون سامنے آ سکتا ہے ، تاہم کسی بڑی تحریک کے لیے مولانا کس حد تک آگے بڑھیں گے ، اس بارے میں حتمی رائے دینا مشکل ہے ۔مولانا فضل الرحمن کی حمایت اس بات کا اشارہ ضرور دیتی ہے کہ وہ اپوزیشن کی سیاست کو دوبارہ متحرک دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے ذریعے مقتدر حلقوں پر بالواسطہ دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے ، مگر فی الحال اس دبا ئو کے مو ثر ہونے کے آثار دکھائی نہیں دیتے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں