بھاٹی گیٹ کیس:مدعیوں نے ملزموں سے صلح کر لی
جوڈیشل مجسٹریٹ نے پانچوں ملزموں کی ضمانت پر رہا ئی کا حکم دے دیا مرحومہ کے شوہر کو 85لاکھ ، والد کو 25لاکھ روپے ملے :وزیراعلیٰ پنجاب
لاہور(کورٹ رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک)بھاٹی گیٹ کے قریب مین ہول میں گر کر ماں بیٹی کے جاں بحق ہونے کے واقعہ کے گیارہ دن بعدمقدمہ کے مدعیوں نے ملزموں سے صلح کرلی، عدالت نے مقدمے میں گرفتار پانچ ملزموں کو صلح کی بنیاد پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ ضلع کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کے حوالے سے تین صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں کہا کہ مقدمے کے مدعیوں میں متوفیہ کے شوہر اور والد شامل ہیں، دونوں نے مشترکہ بیان دیا ہے کہ ملزموں نے انکے نقصان کا ازالہ کردیا ، وہ اس کیس میں مزید کارروائی نہیں چاہتے ، مدعیوں نے کہا کہ اللہ کی رضا کی خاطر ملزموں کو معاف کرتے ہیں، عدالت انہیں بری یا مقدمے سے ڈسچارج کرے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
عدالتی حکم میں کہا گیا کہ مدعیوں کی ملزمان کے خلاف نفرت ختم ہوگئی، عدالتی حکم میں مزید کہا گیا کہ پراسکیوشن نے تاحال کیس کا چالان پیش نہیں کیا لہذا گرفتار پانچ ملزموں کو 50،50 ہزار ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے ،گرفتار ملزموں میں سلمان یاسین ،عثمان یاسین ،احمد نواز ،اصغر علی سمیت دیگر شامل ہیں، تھانہ بھاٹی گیٹ پولیس نے ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کررکھا ہے ۔دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کیس کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے ایکس پر جاری بیان(ٹویٹ)میں کہا ہے کہ بھاٹی گیٹ کیس میں شکایت کنندگان نے ملزمان سے صلح کر لی ، مرحومہ کے شوہر غلام مرتضیٰ کو 85 لاکھ اور والد ساجد کو 25 لاکھ روپے ملے ،کیس کی کارروائی مؤثرطور پر ختم ہوگئی۔