قومی اسمبلی خود کش بم دھماکے کیخلاف مذمتی قرارداد منظور
بھارت نے خودکش حملہ آور کو افغانستان میں تربیت دی،خواجہ آصف
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، نیوزایجنسیاں ) قومی اسمبلی نے ترلائی کلاں میں جامعہ مسجد خدیج الکبری میں ہونے والے المناک خود کش بم دھماکے کیخلاف مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے اس وحشیانہ دہشت گردی کو پاکستان کے آئین، مذہبی آزادی ،قومی سلامتی اور بین المسالک ہم آہنگی پر برائے راست حملہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس سانحہ میں ملوث خود کش حملہ آور، سہولت کاروں، منصوبہ سازوں اور سرپرست عناصر کو بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ۔ پیر کو قومی اسمبلی اجلاس میں رولز معطل کر کے پرائیویٹ ممبر قرارداد انجینئر حمید حسین نے پیش کی۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نائن الیون کے سانحے کوئی افغان، پشتو یا ہزارہ ملوث نہیں تھا مگر ہم نے اس واقعے کے بعد کرائے کی جنگ لڑی اور پھر ہمیں استعمال کر کے پھینک دیا گیا۔ اس میں ملوث عناصر کا آج تک پتہ نہیں چل سکا، جب تک ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ، افغانستان میں پاکستان نے جہاد نہیں لڑا کیونکہ یہ ایک سپر پاور کی جنگ تھی جس کے بعد ہمیں استعمال کر کے پھینک دیا گیا۔ ہم افغانستان کی زمین پر لڑی جانے والی دو جنگوں کے فریق بنے ، روسی افغانستان کی دعوت پر وہاں آئے تھے جس کے خلاف کوئی جہاد نہیں تھا۔
ان خیا لات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کیا ۔ وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور راجہ پرویز اشرف کی باتوں سے کوئی زیادہ اختلاف نہیں ہے ، ایک دور میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی ویزہ نہیں ہوتا تھا اجازت نامے پر جاتے تھے ، میں خود بھی بغیر ویزہ افغانستان گیا تھا۔وزیر دفاع نے کہا کہ آج تک ہم اپنا نصاب واپس نہیں لا سکے اور اپنی پوری تاریخ تبدیل کی، امریکیوں نے ہمیں چھوڑ دیا لیکن ہمیں عقل نہیں آئی۔بھارت نے خودکش حملہ آور کو افغانستان میں تربیت دی،اسلام آباد امام بارگاہ دھماکے کی مزید سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی، خودکش حملہ آور کا چہرہ بھی واضح ہے ،خواجہ آصف نے کہا کہ نائن الیون کا آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ کس نے کرایا مگر اس میں کوئی افغان پشتون یا ہزارہ نہیں تھا اس کے باوجود ہم 2 دہائیوں تک کرائے پر دستیاب تھے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے اسی ایوان میں اپنے باپ کے کئے کی معافی مانگی، اعجاز الحق نے پتہ نہیں اس ایوان میں میرے بارے میں کیا کہا۔انہوں نے سوال کیا کہ ہم اپنے ہیروز کو اپنا ہیرو کیوں نہیں مانتے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان حکومت نے ٹی ٹی پی کو دور لے جانے کے بدلے 10ارب روپے مانگے ، اس کے باوجو افغانستان گارنٹی دینے کو تیار نہیں تھا، جب تک ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے ، آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ جب بھی پاکستان کی معیشت سنبھلنے لگتی ہے ،یہاں بدامنی پھیلائی جاتی ہے اور اس میں بھارت کا ہاتھ ہوتا ہے ،ہمیں کھل کر اس کو اب جواب دینا ہوگا،اپنی فورسز پر تنقید کرنے کی بجائے ان کی پشت پر کھڑا ہونا ہوگا،دہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ مل کر ہی کیا جا سکتا ہے ۔سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن پاکستان کی سالمیت کے لئے ہمیں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ہوگی اور اسے یہ پیغام دینا ہوگا کہ ہم سب اپنی مسلح افواج اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اب دشمن نے وفاقی دارالحکومت میں آ کر ہمیں چیلنج کیا ہے ،اس سب کے پیچھے ہندوستان ہے اور ہمیں ہندوستان کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہوگا۔