فضل الرحمن کی حمایت پی ٹی آئی کی مشترکہ تحریک میں نہ ڈھلی
پارٹی کے مزاحمتی نکتہ نظر کے حامل افراد بھی فی الحال ٹھنڈے نظر آ رہے
(تجزیہ:سلمان غنی)
پی ٹی آئی کی جانب سے کسی کنٹینر کی تیاری اور اسلام آباد کی طرف چڑھاؤ کرنے کے اعلان سے ظاہر ہو رہا ہے کہ پی ٹی آئی پر ان لوگوں کی سوچ و اپروچ غالب آ رہی ہے جو احتجاجی اور مزاحمتی سیاست کی بجائے سیاسی حکمت عملی کے ذریعے اپنا سیاسی کردار ادا کرنے اور مشکل صورتحال میں اپنے لئے سیاسی راستہ نکالنے کا موقف اختیار کرتے نظر آ رہے تھے ۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے حوالہ سے لانگ مارچ کی تردید کا عمل اسی سوچ کا عکاس ہے ۔9 مئی کے واقعات ان کے مقاصد کے حصول کی بجائے انہیں الٹ پڑے اور انہیں اب تک لینے کے دینے پڑ رہے ہیں اور پی ٹی آئی کی لیڈر شپ مشکل حالات اور مقدمات سے دوچار ہے اور خصوصاً اس مرحلہ پر پی ٹی آئی قیادت اور بیانیے کے بحران سے دوچار ہے ، فیصلہ سازی بکھری نظر آ رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمن کی جزوی حمایت علامتی ہے مگر عمل مشترکہ تحریک میں نہیں ڈھلی اور جہاں تک اپوزیشن کی دی جانے والی کال کا تعلق ہے تو اس کی کامیابی کا پتہ اس امر سے چلتا ہے کہ اس کے اثرات کہیں نظر نہیں آ رہے ۔ اتوار کے روز ہڑتال کی کال سے ہی کمزوری ظاہر ہو رہی تھی اور مقصد علامتی احتجاج تھا۔ جہاں تک پہیہ جام کا تعلق ہے تو اس کے اثرات تو کہیں دیکھنے کو نہیں ملے ۔ 8فروری کی کال پر ویسا ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا جیسی توقع ہو رہی تھی۔ البتہ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی سرگرم دکھائی دی اور ان کی جانب سے دکھائی جانے والی مارکیٹوں میں سے اکثر یت ان کی تھی جو اتوار کو پہلے ہی بند ہوتی تھیں۔ لیکن پھر بھی پی ٹی آئی نے اپنی ہڑتال کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے زمینی سطح کی بجائے سوشل میڈیا پر زور لگایا ۔
محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس ایوانوں کی سطح پر تو اپنا ممکنہ کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں لیکن کیا وہ مسائل زدہ ،مہنگائی زدہ عوام کو سڑکوں پر لانے اور احتجاج کا حصہ بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں ؟،تو ایسا ممکن نظر نہیں آ رہا اور ویسے بھی رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ،تو اب کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی اور اپوزیشن اپنی سرگرمیوں کا دائرہ کار ایوانوں اور کارکنوں کی تقاریب اور پریس کانفرنس کے ذریعہ ہی کرے گی اور ویسے بھی اپوزیشن لیڈرز اپنی جماعتوں کے اکلوتے ممبر پارلیمنٹ ہیں اور ان کی اپنی جماعتوں کی عوام میں جڑیں مضبوط نہیں۔
لہٰذا وہ بھی کسی بڑی مزاحمت کیلئے تیار نہیں اور نہ ہی وہ آنے والے حالات میں کسی احتجاج کی کال دیں گے ، لہٰذا فی الحال تو کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں اپوزیشن کی جانب سے کسی احتجاج یا احتجاجی تحریک کا امکان نظر نہیں آتا ۔جہاں تک حکومت کی حکمت عملی کا سوال ہے تو حکومت فی الحال خود کو اپوزیشن کے دباؤ میں محسوس نہیں کر رہی، ویسے بھی طاقت کے مراکز حکومتی سیٹ اپ کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں ۔پی ٹی آئی کے اندر مزاحمتی نکتہ نظر کے حامل افراد بھی حالات کا رخ دیکھتے ہوئے فی الحال ٹھنڈے پڑے نظر آ رہے ہیں۔ جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو احتجاج اور مزاحمت پی ٹی آئی کی پہچان رہی اب خود ان کی اپنی حکمت عملی کے باعث اب ان کی کمزوری بن چکی ہے اور انہیں اتنا بڑا کردار نظر نہیں آ رہا۔