پاکستان کیساتھ بارٹرٹریڈسمیت کئی منصوبے زیرغور:روسی سفیر
انسولین مشترکہ طور پر تیار کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ،تقریب سے خطاب
اسلام آباد (وقائع نگار)روس کے سفیر البرٹ خوریف نے کہاہے روس مخالف پابندیوں کے باوجود پاکستان کیساتھ تجارت جاری رکھنے کے لیے متبادل طریقے تلاش کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک قابلِ اعتماد متبادل ادائیگی نظام بنانے پر کام کر رہے ہیں۔اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر نے کہابین الحکومتی کمیشن کے تحت بارٹر سسٹم اور تبادلہ جاتی تجارت کے منصوبوں پر غور ہو رہا ہے۔
کراچی سٹیل ملز کی بحالی، نارتھ ساؤتھ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کوریڈور کے ذریعے ریلوے رابطے کا آغاز بھی زیرِ بحث ہے ،پاکستان میں ادویات، جن میں انسولین بھی شامل ہے ، مشترکہ طور پر تیار کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔روس پاکستان میں پن بجلی کے منصوبوں میں حصہ لینا چاہتا ہے اور نئے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس بنانے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے ۔تیل اور گیس کے شعبے میں بھی اہم منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔روسی سفیر نے کہا کہ یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تجارتی اور معاشی تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔سفیر نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ سال روس نے پاکستانی طلبہ کے لیے روسی جامعات میں وظائف کی تعداد تین گنا بڑھا کر 152 کر دی ہے ۔