سینیٹ:حکومت نے سولر صارفین پربم گرایا:اپوزیشن،نیٹ میٹرنگ سے200ارب کا بوجھ:وریر توانائی

سینیٹ:حکومت نے سولر صارفین پربم گرایا:اپوزیشن،نیٹ میٹرنگ سے200ارب کا بوجھ:وریر توانائی

سولر پینل صارفین کیخلاف اقدام درست نہیں،عوام سے دہشتگردیکی جا رہی ،معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا گیا، حکومت کا وہ حشر ہوگا یاد رکھے گی :علی ظفر، کامران مرتضیٰ آئی پی پیز اژدھا بن چکا،بیروزگاری بڑھ رہی، آپ سے معاملات ٹھیک نہیں ہو رہے :شیری ،سولر پالیسی اقدامات ضروری تھے ، عام آدمی کو فائدہ پہنچے گا:اویس لغاری

اسلام آبا د(وقائع نگار،نیوز ایجنسیاں ) سینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے سولر نیٹ میٹرنگ سے متعلق حکومتی فیصلے پر شدید تنقید کی جبکہ وزیر توانائی نے فیصلے کا خوب دفاع کرتے ہوئے اسے عام آدمی کیلئے مفید قرار دیا اور کہا کہ نئی ریگولیشنز کا مقصد غریب عوام کو تحفظ دینا ہے ، پرانے نرخوں پر نیٹ میٹرنگ کے باعث باقی غریب صارفین پر سالانہ 200ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑ رہا تھا جو مستقبل میں بڑھ کر 500ارب روپے تک جا سکتا تھا۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفرنے کہا کہ حکومت سولر بجلی گیارہ روپے خریدکر چالیس روپے میں بیچے گی ۔سولر پینل لگانے والوں کے خلاف حکومتی اقدام درست نہیں۔حکومت کا وہ حشر ہوگا جو یہ یاد رکھے گی ۔پہلے عوام کو سولر پینلز لگانے کی ترغیب دی گئی۔کہا گیا تیل کی بجائے شمسی  توانائی سے بجلی حاصل کریں۔قوم نے گھر گھر گلی گلی سولر پینلز لگانا شروع کردیں۔

لوگوں نے لاکھوں روپے پیٹ کاٹ کر سولر پینلز لگالئے ۔بہت سے لوگوں نے قرض لے کر سولر پینل لگائے ۔ ایک بہت بڑا مافیا آئی پی پیز کا ہے ۔یہ مافیا بہت مہنگی بجلی حکومت کو دے رہا ہے ۔ان کا قرض حکومت نے خود دینے کی بجائے سولر پینل لگانے والوں پر بم پھاڑدیا۔نیپرا نے جو انائونس کیا ہے یہ وہی بم ہے ۔حکومت گیارہ روپے کی خریدکر وہی بجلی چالیس روپے میں بیچے گی۔عوام کی خوشحالی کی بجائے حکومت ان سے دہشت گردی کررہی ہے ۔حکومت یہ جواب دے گی کہ یہ نیپرا نے کیا ہے ۔ایوان میں کہتا ہوں نیپرا خودمختار نہیں ہے ۔نیپرا وہی کرتی ہے جو حکومت کہتی ہے ۔حکومت اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرسکتی، یہ قانون ہے ۔سولر پینل لگانے والوں کے خلاف حکومتی اقدام درست نہیں۔حکومت کا وہ حشر ہوگا جو یہ یاد رکھے گی ۔عوام کے ساتھ وعدہ کی خلاف ورزی کی گئی ۔نیپرا کے چینل کو سینیٹ میں بلائیں اور ان سے جواب لیں۔ اس موقع پرسینیٹر مشعال یوسفزئی نے کورم کی نشاندھی کر دی۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ آپ کے پارلیمانی لیڈر نے تحریک پیش کرنا تھی۔کام ہو رہا ہے تو ان کو تکلیف ہو رہی ہے ۔ گنتی پر سینیٹ اجلاس کا کورم پورا نکلا جس پر اجلاس کی کارروائی جاری رہی۔

سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ اس وقت جو فیصلہ آیا ہے نیپرا کا، اس کا بھی نقصان حکومت کو ہو گا۔جو لوگ آف گرڈ جا رہے ہیں، وہ نیپرا کے ریٹس پر بجلی نہیں لیں گے ۔انڈسٹری پریشان ہے ، لوگ ملک سے بھاگ رہے ہیں۔کیا ہم نے صرف زرمبادلہ کے اوپر اپنی معیشت کو چلانا ہے ۔اس ملک میں ان کی جانب سے سانس لینے پر پابندی لگائی جا رہی ہے ۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ہم سب بجلی کے بل پر ٹیکس دے رہے ہیں لیکن آپ مسلسل یہ چارجز بڑھا رہے ہیں۔آپ باہر سے گیس بھی منگوا رہے ہیں۔اس وقت ملک میں بے روزگاری شرح میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے ۔آپ سے معاملات ٹھیک نہیں ہو رہے ۔آئی پی پیز اس وقت اژدھا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔پبلک سیکٹر کو آپ بند کرتے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا کہ یہ پالیسی نہیں ہے ، یہ ریگولیشن میں تبدیلی آئی ہے ۔حکومت پاکستان اور وزارت نے عوام اور متعلقہ تمام لوگوں دس بارہ مہینے پہلے آن بورڈ لینا شروع کیا۔سولر ایسوسی ایشن نے بھی ہمیں اس حوالے سے کہا کہ یہ ضروری ہے ۔یہ کئے بغیر عوام کے مفاد کا تحفظ نہیں کیا جا سکتا۔نیپرا کا کام ہی یہی ہے کہ وہ ناحق بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو روکے ۔

ریگولیٹر نے اس پر ایک شق کو بھی نہیں چھیڑا گیا۔ڈالر کا ریٹ عمران خان کے دور میں گرنا شروع ہوا۔اس وقت بجلی کا ریٹ آسمان تک پہنچ گیا تھا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اس وقت ملک کی معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا گیا ہے ۔سستی بجلی اس ملک کی ضرورت ہے ۔اس وقت کئی انڈسٹریز ان ریٹس کی وجہ سے بند ہونے جا رہی ہیں۔نیپرا ریٹس صرف تجویز کر سکتی ہے ، عملدرآمد ایگزیکٹو کر سکتا ہے ۔کیا اس کا مقصد آئی پی پیز کو فائدہ دینا ہے ۔وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ شمسی توانائی کے حوالے سے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی۔آئین اور قانون کے تحت نیپرا ریگولیشنز میں ترمیم کی گئی۔سولر پالیسی سے متعلق اقدامات ضروری تھے ۔یہ کئے بغیر عوام کے مفاد کا تحفظ نہیں کیا جا سکتا۔نیپرا کا کام یہی ہے کہ وہ ناحق بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو روکے ۔ سردار اویس لغاری نے کہا کہ ڈسکوز کے 586ارب روپے کا نقصان کم کر کے 397 ارب روپے پر لے آئے ہیں۔اگلے سال تک ہم یہ نقصانات بھی ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔میں خود 11 کے وی کا سولر گرڈ چلا رہا ہوں۔

مجھے پتا ہے کہ ان کو ریگولر کرنے کا فائدہ عام آدمی کو پہنچے گا۔جو لوگ تنقید کر رہے ہیں ان کو مکمل صورتحال کا علم نہیں۔تین سال بعد بجلی کے ریٹس پر اپنا سر شرمندگی سے نیچے کر کے جواب نہیں دینا پڑے گا۔سولر سسٹم کے ذریعے مزید 8 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش رکھی۔ نیٹ میٹرنگ سے متعلق بات کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ ملک میں کل بجلی صارفین کی تعداد ساڑھے تین کروڑ سے زائد ہے جن میں سے صرف چار لاکھ 66ہزار کے قریب صارفین نیٹ میٹرنگ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، ان صارفین نے تقریباً 7ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی ہے جس میں سے بڑا حصہ چند صنعتی صارفین کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرانے نرخوں پر نیٹ میٹرنگ کے باعث باقی غریب صارفین پر سالانہ 200ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑ رہا تھا جو مستقبل میں بڑھ کر 500ارب روپے تک جا سکتا تھا۔وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ نئی ریگولیشنز کا مقصد غریب عوام کو تحفظ دینا ہے ۔ ان کے مطابق نیپرا کی جانب سے طے کردہ نئے نرخوں پر بھی نیٹ میٹرنگ ایک منافع بخش سرمایہ کاری رہے گی اور صارفین تین سے ساڑھے تین سال میں اپنی لاگت پوری کر سکتے ہیں جو بینکوں کے منافع سے کہیں زیادہ ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں