مریم نواز کا دورۂ بلوچستان دہشتگردی کیخلاف قومی اتحاد کا مظہر

مریم نواز کا دورۂ بلوچستان دہشتگردی کیخلاف قومی اتحاد کا مظہر

سیاسی عمل کو آگے بڑھانا، لاپتا افراد اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ناگزیر

(تجزیہ: سلمان غنی)

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کوئٹہ کا دورہ دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز، منتخب قیادت اور عوام کی قربانیوں سے یکجہتی کا عملی اظہار ہے ۔ یہ دورہ نہ صرف دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد اور بین الصوبائی یکجہتی کا مظہر ہے بلکہ ریاستی مضبوطی اور استحکام کے لیے بھی ایک مثبت علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ اس طرزِ عمل سے واضح پیغام ملا ہے کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے یا قومیت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے ۔داخلی سکیورٹی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب وفاقی اکائیاں ایک  دوسرے کے سکیورٹی خدشات کو سمجھیں اور ان میں اشتراک عمل پیدا ہو۔ ایسی سیاسی یکجہتی سے نہ صرف ریاست کی رٹ مستحکم ہوتی ہے بلکہ سکیورٹی آپریشنز کو عوامی اور سیاسی قبولیت بھی حاصل ہوتی ہے ۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں، تاہم اس جنگ میں کامیابی کے لیے سیاسی حمایت ناگزیر ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قوم اپنی فوج کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے تو فتح یقینی بنتی ہے ، جس کی واضح مثال 10 مئی کو بھارت کے خلاف کامیاب دفاع ہے ۔ماہرین کے مطابق دشمن اب براہِ راست جارحیت کے بجائے دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور بلوچستان اس کا خصوصی ہدف ہے ۔ اس کی وجہ بلوچستان کی اسٹریٹجک اہمیت، قدرتی وسائل، سی پیک اور خصوصاً گوادر بندرگاہ ہے ۔ اگر بلوچستان میں امن قائم ہو گیا تو پاکستان کو معاشی ترقی سے روکنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہے گا، یہی وجہ ہے کہ بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں یہاں بدامنی پھیلانے میں مصروف ہیں۔تاہم صرف سکیورٹی آپریشنز کافی نہیں ہوں گے ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیاسی عمل کو آگے بڑھانا، لاپتا افراد کے مسئلے کو حل کرنا، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور احساسِ محرومی کا خاتمہ ناگزیر ہے ۔

یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بلوچستان میں بدامنی صرف بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ داخلی محرومیوں کا عنصر بھی اس میں شامل ہے ، جو حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے ۔ماضی میں نواز شریف نے بلوچستان کے مسائل کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے قومی پرست قیادت کو قومی دھارے میں شامل کیا اور اکثریت کے باوجود ڈاکٹر مالک کو وزیراعلیٰ بنایا، جس سے بلوچ عوام کا مرکز پر اعتماد بحال ہوا۔ اگرچہ یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا، تاہم مریم نواز کا حالیہ دورہ اسی سوچ کا تسلسل نظر آتا ہے ۔ انہوں نے اہلِ پنجاب کی جانب سے بلوچستان کے عوام، قیادت اور سکیورٹی فورسز سے یکجہتی کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون کا عندیہ دیا۔یہ دورہ ایک مثبت اور علامتی آغاز ہے جو دیگر صوبائی حکومتوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بن سکتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس علامتی قدم کو مستقل اور نتیجہ خیز سیاسی عمل میں بدلا جائے تاکہ بلوچستان میں امن، اعتماد اور ترقی کا خواب حقیقت بن سکے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں