عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا فیصلہ طبی ماہرین کی سفارش سے مشروط : ذمہ دار ذرائع
سپیشلائزڈ ڈاکٹر ز آئندہ معائنے کے بعد سفارشات تیار کرینگے ، حتمی رپورٹ کے بعد صحت ، آنکھ سے متعلق رائے قائم ہوگی علاج اور سہیل آفریدی کی اہم اجلاسوں میں شرکت کو ڈیل سے جوڑنا غلط تاثر،عدالتی سزاؤں پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے گا
اسلام آباد (عدیل وڑائچ)ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا فیصلہ طبی ماہرین کی سفارش سے مشروط ہے، اگر متعلقہ ڈاکٹرز نے سفارش کی تو بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ سفارشات سپیشلائزڈ ڈاکٹر ز آئندہ معائنے کے بعد تیار کرینگے ۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ ماہر ڈاکٹرز سے 16 فروری سے قبل کروایا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت اور انکی آنکھ سے متعلق رائے متعلقہ طبی ماہرین کی حتمی رپورٹ کے بعد ہی قائم کی جاسکتی ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج اور پشاور میں ہونے والے اجلاسوں میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی شرکت کو ڈیل یا ڈھیل سے جوڑنا ایک غلط تاثر ہے ، بانی پی ٹی آئی کے کیسز کا معاملہ قانون کے مطابق عدالتی فیصلوں سے جڑا ہے ، انکی صحت کے معاملات کو کسی بیک ڈور ڈیل سے جوڑنا درست نہیں۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ سلمان صفدر کا جیل جانا اور اعلیٰ عدلیہ کو تفصیلات بتانا قانون کی حکمرانی کا مظہر ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر کو فرینڈ آف کورٹ بنانا اور انکی رپورٹ کو پبلک کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ایسے معاملات مکمل شفافیت سے طے پا رہے ہیں۔ذرائع نے کہا کہ ملکی سلامتی اور عوامی مفاد کیلئے سیاسی قوتوں کے رابطے ایک روٹین کا معاملہ ہے اور بانی پی ٹی آئی کے معاملے کو قانون کے مطابق ہی ڈیل کیا جائے گا۔ ذرائع نے کہا کہ عدالتی سزاؤں پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے گا کیسز کو قانون کے مطابق عدالتوں کے فیصلے کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔