انڈیا کا قومی ترانہ گانے کے الزام میں باچا خان یونیورسٹی سے 4 طلبہ خارج
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں قائم باچا خان یونیورسٹی میں انڈیا کا قومی ترانہ گانے کے الزام میں شعبہ فارمیسی کے چار طلبہ کو یونیورسٹی سے خارج کر دیاگیا اور ان کی ہاسٹل کی رہائش بھی منسوخ کر دی گئی اور انہیں فوری طور پر کمرے خالی کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ یونیورسٹی ڈسپلنری کمیٹی کے 73ویں اجلاس کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا۔یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دو روزہ فیسٹیول کے دوران چند طلبہ نے نہ صرف انڈیا کا قومی ترانہ گایا بلکہ ‘جے ہند’ کے نعرے بھی لگائے ، طلبہ نے جامعہ کی حدود کے اندر انڈیا کا قومی ترانہ مبینہ طور پر ایسے انداز میں پیش کیا جس سے بدامنی پھیلنے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ مزید یہ کہ واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی۔خیال رہے ویڈیو وائرل ہونے پر مختلف طلبہ تنظیموں نے احتجاج بھی کیا تھا۔دوسری جانب طالب علم جبران ریاض کا موقف بھی سامنے آیا ہے ، اس نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ترانہ محض تفریح کی غرض سے گایا گیا تھا، جس طرح طلبہ انڈین گانے سنتے ہیں، اسی طرح یہ بھی ایک پرفارمنس تھی، انڈیا سے کوئی ہمدردی یا وابستگی نہیں اور وہ اپنے ملک اور مسلح افواج کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔