سیمنٹ بوریوں میں آٹاکینسر کا باعث ،کریک ڈائون کاحکم
صرف جرمانہ نہیں، 30دن کے اندرچھاپے ،گرفتاریاں کریں:اسلام آباد ہائیکورٹ قانون کتابوں میں سجانے کیلئے نہیں، عوامی جان و مال کا محافظ ہوتا ہے :تحریری فیصلہ
اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ نے آٹے سمیت کھانے پینے کی چیزوں کے لیے غیر معیاری بوریوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے حکم دیاہے کہ 30 دن کے اندر ملک بھر میں ایسی بوریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا جائے، عدالت نے کہاکہ قانون صرف کتابوں میں سجانے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہوتا ہے، جسٹس اعظم خان نے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں عدالت کاکہناہے کہ غیر معیاری بوریاں بنانے والی فیکٹریوں، گوداموں اور دکانوں پر چھاپے مارے جائیں اور سامان ضبط کیا جائے، سیمنٹ والی پرانی بوریوں میں آٹا بھرنا کینسر جیسی بیماریوں کا باعث بن رہا ہے ،قانون توڑنے والوں کے خلاف اب صرف جرمانہ نہیں بلکہ مقدمات درج کر کے گرفتاریاں بھی کی جائیں،ناقص بوریوں کی وجہ سے ہر سال اربوں روپے کا آٹا ضائع ہوا ہے ،گزشتہ 8 برسوں میں لاپرواہی کی وجہ سے قومی خزانے کو 80 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی وزارتِ خوراک اور چاروں صوبوں کو مل کر ایکشن لینے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے حکم دیاکہ چیف سیکرٹریز اور فوڈ اتھارٹیز اپنے اپنے علاقوں میں اس فیصلے پر سختی سے عمل کروائیں،پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی اور وزارتِ خوراک تین ماہ کے اندر مکمل رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔