کراچی کی تقسیم یا نئے صوبوں کا مطالبہ غداری نہیں ،خالد مقبول

کراچی کی تقسیم یا نئے صوبوں کا مطالبہ غداری نہیں ،خالد مقبول

پیپلزپارٹی پنجاب میں صوبے مانگ سکتی ہے تو سندھ میں کیوں نہیں ؟چیئرمین ایم کیو ایم 18ویں ترمیم کے بعد مسائل حل نہیں ہوئے ،لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب سے خطاب

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)ایم کیو ایم کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تقسیم کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے ، اگر نئے صوبے بننے  سے پاکستان تقسیم نہیں ہوتا تو پھر اس عمل کو متنازع کیوں بنایا جاتا ہے ۔نئے صوبوں کے مطالبے پر دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی یا ملک کے کسی بھی حصے کے لیے کوئی بھی مطالبہ آئین سے متصادم نہیں ہے ، کراچی کی تقسیم یا نئے صوبوں کا مطالبہ غداری نہیں بلکہ آئینی حق ہے ، پیپلز پارٹی پنجاب میں صوبے مانگ سکتی ہے تو سندھ میں کیوں نہیں؟صوبے ریاست نہیں بلکہ انتظامی یونٹس ہوتے ہیں جن کی حیثیت ڈسٹرکٹ اور ڈویژن جیسی ہے ۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ 1947 میں 2.5 کروڑ کی آبادی کے وقت بھی اتنے ہی صوبے تھے اور آج 25 کروڑ کی آبادی پر بھی وہی ڈھانچہ ہے ، اگر پنجاب کی تقسیم کی بات جائز ہے تو سندھ کی تقسیم کو غداری کیوں قرار دیا جاتا ہے ؟ یہ باتیں انہوں نے حیدرآباد انسٹی ٹیوٹ فار ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز (HITMS)کے زیر اہتمام کراچی کی مقامی یونیورسٹی میں منعقدہ ‘‘وزیر اعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم’’ کی تقسیمِ اسناد و لیپ ٹاپ تقریب سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہیں ۔خالد مقبول کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد بھی مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہوئے ،کیا گھوسٹ اسکول ختم ہوگئے ؟ پنجاب اور سندھ کئی ممالک سے بڑے ہیں، ایسے میں بہتر طرز حکمرانی کے لیے انتظامی اصلاحات پر بات ہونی چاہیے ۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ہمارے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں اور چیلنج بھی، ہمیں اپنے نوجوانوں کو ڈگری کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور ہنر سے آراستہ کرنا ہوگا کیونکہ آنے والے 30 برس میں دنیا اتنی تیزی سے بدل جائے گی کہ ایک ارب لوگ غیر متعلق ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کے پاس دفاعی اخراجات اور قرضے اتارنے کے علاوہ کوئی پیسہ نہیں بچتا، تعلیم مکمل طور پر صوبوں کے سپرد ہے اور اب یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں