دوسرا پارلیمانی سال ،قومی اسمبلی سے 27ویں ترمیم سمیت59بلز منظور

دوسرا  پارلیمانی  سال ،قومی  اسمبلی  سے 27ویں  ترمیم  سمیت59بلز  منظور

پاکستان آرمی ،پاکستان ایئر فورس،پاکستان نیوی ،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرترمیمی بلز 2025بھی شامل سب سے زیادہ قانون سازی مئی 2025 میں ہوئی ،پہلے پارلیمانی سال کی نسبت آرڈیننس 50 فیصد کم پیش ہوئے

 اسلام آباد (اے پی پی)موجودہ قومی اسمبلی کے یکم مارچ 2025 سے شروع ہونے والے دوسرے پارلیمانی سال کے دوران قانون سازی میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے ، دوسرے پارلیمانی سال کے آخری ماہ میں 12 فروری 2026 تک 27 ویں آئینی ترمیم سمیت 46 مختلف سرکاری بلز منظور کئے گئے جبکہ اس دورانیہ کے دوران ممبران کی جانب سے پیش کئے 13 نجی بلز بھی منظور ہوئے ۔قومی  اسمبلی سے دستیاب اعداد وشمار کے مطابق دوسرے پارلیمانی سال کا اختتام 28 فروری 2026 کو ہونا ہے ۔اس دوران 27 ویں آئینی ترمیم بل 2025،پاکستان آرمی ترمیمی بل 2025،پاکستان ایئر فورس ترمیمی بل 2025،پاکستان نیوی ترمیمی بل 2025، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرترمیمی بل 2025،آسان کاروبار بل 2025، نیشنل سکول آف پبلک پالیسی بل 2025، انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2025، پٹرولیم ترمیمی بل 2025،پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بل 2025، پاکستان سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل 2025،فوجداری قوانین ترمیمی بل 2025و دیگر بلز شامل ہیں۔

دوسرے پارلیمانی سال کے دوران سب سے زیادہ قانون سازی مئی 2025 میں ہوئی اس ماہ میں 12سرکاری بلز منظور ہو ئے جبکہ سب سے زیادہ نجی بلز اگست 2025 کے مہینے میں پاس ہوئے جن کی کل تعداد 5 تھی۔اس کے علاوہ دوسرے پارلیمانی سال کے دوران دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں 10 بلز منظور ہوئے ۔ان میں دانش سکول اتھارٹی بل 2026،قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2026،گھریلو تشدد (روک تھام وتحفظ) ترمیمی بل 2026،نیشنل یونیورسٹی آف سکیورٹی سائنسز اسلام آباد بل 2025،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ (ترمیمی) بل 2025،قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل 2025،اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل 2025، گھرکی انسٹیٹیوٹ آف سائنس و ٹیکنالوجی بل 2025،انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025 شامل ہیں۔دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 8 آریننس بھی قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے ۔پہلے پارلیمانی سال کی نسبت ان میں 50 فیصد کمی آئی ہے ۔پہلے سال میں 16 آرڈیننس پیش کئے گئے تھے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں