بورڈ آف پیس اجلاس سے غزہ مظالم کاازالہ ایک چیلنج !
کیا عالم اسلام کے ممالک فلسطین کاز پر مشترکہ مؤقف اختیار کر پائیں گے ؟
(تجزیہ: سلمان غنی)
واشنگٹن میں 19 فروری کو امریکی صدر ٹرمپ کی صدارت میں ہونے والے بورڈ آف پیس کے اجلاس پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔ اس اجلاس کا سب سے اہم پہلو غزہ کی صورتحال کا جائزہ اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اجلاس محض رسمی کارروائی ثابت ہوگا یا واقعی غزہ میں جاری مظالم کے ازالے کی سمت کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے آئے گی؟اطلاعات کے مطابق اجلاس میں بورڈ کے دائرہ کار، ساخت اور اختیارات پر بھی غور ہوگا، تاہم اصل کسوٹی یہ ہے کہ کیا مقبوضہ علاقوں میں جاری اسرائیلی تشدد کو روکنے اور غزہ میں پیدا شدہ انسانی بحران پر صیہونی ریاست کو جوابدہ بنانے کے لیے عملی اقدامات تجویز کیے جائیں گے ۔ جنگ بندی کے باوجود مغربی کنارے کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے جبکہ غزہ میں جاری خونریز مہم کے دوران مبینہ جنگی جرائم سے متعلق نئے شواہد عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔پاکستان سمیت بورڈ کے رکن مسلم ممالک نے غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، مگر اصل امتحان مشترکہ اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنے کا ہے ۔
کیا عالمِ اسلام فلسطین کاز پر متحد ہو پائے گا؟ کیا اسرائیل کو جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور بمباری کے تسلسل پر روکا جا سکے گا؟ اور کیا عالمی طاقتیں طاقت کی سیاست سے نکل کر عدل، انصاف اور حقِ خودارادیت پر مبنی عالمی نظام کی تشکیل کی جانب پیش رفت کریں گی؟پاکستان کے لیے فلسطین محض خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں بلکہ تاریخی وابستگی اور عوامی جذبات کا مسئلہ ہے ۔ قیامِ پاکستان سے آج تک اسلام آباد نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مؤقف کو مستقل اور اصولی انداز میں برقرار رکھا ہے ۔ پاکستانی عوام کے نزدیک فلسطین ایک نظریاتی وابستگی کی علامت ہے ، یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کے لیے بھی اصولی مؤقف سے انحراف ممکن نہیں۔امریکہ خود کو انسانی حقوق کا علمبردار قرار دیتا ہے ، مگر اس کی خارجہ پالیسی اکثر مفادات کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے ۔ اگر عالمی طاقتیں دوہرے معیار ترک کرکے یکساں اصول اپنائیں تو شاید دنیا ایک منصفانہ سمت میں آگے بڑھ سکے ۔ بورڈ آف پیس کا یہ اجلاس دراصل عالمِ اسلام کی قیادت کا امتحان بھی ہے یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا وہ فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر اور عملی کردار ادا کر پاتی ہیں یا نہیں۔ ان کا طرزِ عمل صرف عالمی سطح پر ہی نہیں بلکہ اپنے ممالک کے عوام کے سامنے بھی جوابدہی کا باعث بنے گا۔