پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے
علیمہ خان کی الگ حکمت عملی نے اپوزیشن قیادت کی کوششوں کو محدود کیا
(تجزیہ: سلمان غنی)
بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے پارلیمنٹ ہاؤس پر دھرنا بغیر کسی مقصد کے ختم کر دیا گیا۔ راجہ ناصر عباس کے مطابق عدالت میں معاملہ اٹھانے کے بعد ذاتی معالجین کو بانی سے ملوانے کا مطالبہ پورا ہو گیا، جبکہ وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی رہائی فورس بنانے کا اعلان کیا، جس کی باقاعدہ رجسٹریشن اور چین آف کمانڈ ہوگا۔تجزیے کے مطابق دھرنا ناکام ہونے کی وجہ حقیقت پسندانہ مطالبات کی کمی اور احتجاج کی غیر مؤثر حکمت عملی تھی۔ رمضان المبارک کی بنیاد پر دھرنا ملتوی کرنے کا فیصلہ عدالت کے احکامات اور بانی پی ٹی آئی کے میڈیکل سہولتوں کی فراہمی کے بعد کیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق بیرسٹر گوہر دائرہ کار میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے میڈیکل چیک اپ میں تاخیر ہوئی اور علیمہ خان کو اس تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمت عملی داخلی تقسیم اور پارٹی میں پالیسی اختلاف کی وجہ سے مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کی الگ حکمت عملی نے اپوزیشن قیادت کی کوششوں کو محدود کیا۔ احتجاجی کارروائیوں نے وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی بجائے خود پی ٹی آئی کو نقصان پہنچایا، خصوصاً پختونخوا میں عوامی مشکلات پیدا ہوئیں۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی رہائی فورس بنانے کی حکمت عملی مقامی سطح پر اثر ڈال سکتی ہے ، لیکن پنجاب اور سندھ میں اس کے اثرات محدود رہیں گے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن کی احتجاجی حکمت عملی ملک گیر سطح پر نتیجہ خیز نہیں اور زیادہ نقصان خود پی ٹی آئی کی داخلی صورتحال اور غیر یکسوئی سے ہوا ہے ۔