فلسطینی اراضی پر اسرائیلی قبضہ ناقابل قبول :اسحاق ڈار
اسلام آباد (وقائع نگار،مانیٹرنگ ڈیسک) نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا فلسطینی اراضی پر اسرائیلی قبضہ ناقابل قبول ہے ،غزہ امن بورٖڈ سے امن کی امید ہے۔۔۔
اس سے غزہ کی تعمیر نو ہوگی،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مشرقِ وسطیٰ بشمول مسئلۂ فلسطین پر ہونے والی بریفنگ میں پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے مزید کہا پاکستان مستقل جنگ بندی، امداد میں اضافے ، غزہ کی تعمیرِ نو اور مربوط سفارت کاری کے ذریعے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کی حمایت کے لیے بورڈ آف پیس میں شامل ہوا،پاکستان صدر ٹرمپ کے امن منصوبے ، بورڈ آف پیس، مسئلۂ فلسطین کے پُرامن حل سے متعلق اعلیٰ سطح کانفرنس اور دو ریاستی حل کے لیے عالمی اتحاد جیسے اقدامات میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے ،انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں اور فلسطینیوں کو بیدخل کرنے کے اقدام کی مذمت کی اور کہا فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار تمام صورتحال میں لازم و ملزوم ہے ۔اس موقع پر اسحاق ڈار نے عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔
اسحاق ڈار نے انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ سوگیونو سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کی وسعت اور مضبوطی پر اطمینان کا اظہار کیا۔مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبد العاطی سے ملاقات میں انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون پراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قریبی رابطہ برقرار رکھنے کا اعادہ کیا۔اسحاق ڈار کی فلسطین کے مستقل مندوب وزیر ریاض منصور سے بھی ملاقات ہوئی جس میں ریاستِ فلسطین کے ساتھ قریبی رابطہ استوار رکھتے ہوئے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اعادہ کیا گیا، ملاقات میں کشمیر کی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔برطانیہ کی وزیر خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقیاتی امور یوویٹ کوپر سے ملاقات کی میں دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کا جائزہ لیا اور اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے ، بالخصوص عوامی سطح پر روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔ اسحاق ڈار کی اردن کے ہم منصب ایمن الصفدی سے بھی ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے فلسطینی عوام کے منصفانہ کاز کے لیے مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کا جائزہ، پاک-اردن مشترکہ وزارتی کمیشن کے باعث پیدا مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا گیا۔