لگژری گاڑیاں،لامحدود پٹرول ،پنجاب بیوروکریسی کی موجیں:خزانے پر سوا ارب کا اضافی بوجھ پڑیگا
چیف سیکرٹری ، آئی جی 4700 سی سی تک کی 3،3 گاڑیاں استعمال کر سکیں گے ، نئی ٹرانسپورٹ پالیسی جاری بعض شقوں کے باعث اضافی اخراجات مزید بڑھ بھی سکتے ہیں، پہلے 1600سی سی گاڑی، 200لٹرپٹرول ملتا تھا
لاہور،اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے ، دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب حکومت نے افسر وں کیلئے نئی موٹر ٹرانسپورٹ پالیسی جاری کر دی، صوبائی خزانے کو سالانہ 1ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کا اضافی بوجھ برداشت کرنا ہوگا جبکہ بعض شقوں کے باعث یہ رقم مزید بڑھ سکتی ہے ، پالیسی میں اعلیٰ افسر وں کیلئے بڑی انجن گنجائش والی لگژری گاڑیوں اور ایندھن کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے ،چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو 3، 3 سرکاری گاڑیاں 2800،1800 اور 4700 سی سی رکھنے کی اجازت دیدی گئی ہے ،دونوں کو 2،2 گاڑیوں کیلئے ماہانہ 800 لٹر پٹرول ملے گاجبکہ 4700 سی سی گاڑی کے پٹرول کی کوئی حد مقرر نہیں ، جو مالی نظم و ضبط کے حوالے سے سب سے اہم اور متنازعہ شق سمجھی جا رہی ہے ۔ نئی پالیسی کے بعد نہ صرف گاڑیوں کی کیٹیگری اپ گریڈ کی گئی بلکہ ایندھن کا کوٹہ بھی کئی گنا بڑھا دیا گیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق صرف چیف سیکرٹری اور آئی جی کیلئے کم از کم 1400 لٹر ماہانہ اضافی پٹرول کی گنجائش پیدا ہوئی ہے جس کی مالیت موجودہ قیمتوں کے حساب سے فی عہدہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے ماہانہ بنتی ہے ۔ یوں دونوں عہدوں کیلئے 7 لاکھ روپے سے زائد ماہانہ اضافہ ہوگا جبکہ پروٹوکول، سکیورٹی سکواڈ، اضافی گاڑیوں اور ڈرائیورز کے اخراجات اس کے علاوہ ہوں گے ۔ سابقہ پالیسی میں چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری نسبتاً کم انجن گنجائش یعنی1300 اور 1600سی سی گاڑیاں رکھنے کے مجازتھے اور ڈیوٹی پرگاڑی کیلئے 200 لٹر پٹرول ماہانہ کی حد مقرر تھی، تاہم پنجاب کے سرکاری دورے پر جانے والی گاڑی کیلئے پٹرول کی کوئی حد مقرر نہیں تھی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ20،21اور 22کے افسروں میں سیکرٹری 2800 اور 1800سی سی انجن کی 2 گاڑیاں استعمال کر سکیں گے ۔گریڈ 22 اور 21 کے افسر ذاتی استعمال کیلئے 200 لٹر اور سرکاری استعمال کیلئے لا محدود پٹرول استعمال کریں گے ۔
پرانی پالیسی کے تحت انتظامی سیکرٹری پنجاب 1300سی سی گاڑی اور 200 لٹر پٹرول ہر ماہ استعمال کرسکتے تھے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 19 اور20 کے سپیشل سیکرٹری اور ڈی آئی جی 1600سی سی گاڑی اور 250 لٹر پٹرول ہر ماہ استعمال کریں گے جبکہ پرانی پالیسی کے تحت یہ افسر 1000 سے 1300سی سی گاڑی اور 175لٹر پٹرول ہر ماہ استعمال کرسکتے تھے ۔اس کے علاوہ گریڈ 19کے ایڈیشنل سیکرٹری 1600 سی سی گاڑی اور 200 لٹر پٹرول ہر ماہ استعمال کریں گے ، پرانی پالیسی کے تحت یہ افسران 175 لٹر پٹرول ہر ماہ استعمال کر سکتے تھے ۔گریڈ18 میں ڈپٹی سیکرٹری1500 سی سی گاڑی کے لیے 175 لٹر پٹرول استعمال کریں گے ۔ پرانی پالیسی کے تحت ڈپٹی سیکرٹری 1000 سی سی گاڑی اور 150 لٹر تک پٹرول ہر ماہ استعمال کرسکتے تھے ۔چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کے سٹاف افسراور سیکشن افسر 1300سی سی گاڑی اور 150 لٹر پٹرول ہر ماہ استعمال کریں گے ۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب میں وزرا کے سٹاف افسر 1300سی سی گاڑی اور 125 لٹر پٹرول ہر ماہ استعمال کریں گے ۔ماہرین کے مطابق نئی پالیسی صرف دو اعلیٰ عہدوں تک محدود نہیں رہے گی، پنجاب میں 10 کمشنرز اور 41 ڈپٹی کمشنرز سمیت فیلڈ افسروں کی بڑی تعداد سرکاری گاڑیوں کی سہولت استعمال کرتی ہے ۔ پولیس کے آر پی اوز، ڈی پی اوز اور دیگر فیلڈ کمانڈرز کے ٹرانسپورٹ اخراجات میں بھی اضافہ متوقع ہے ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹریز اور ایڈیشنل آئی جیز کی دو سرکاری گاڑیاں 2800سی سی ہوگی اور ان کے لئے پٹرول کی کوئی حد نہیں ہوگی ۔ جبکہ ذاتی استعمال کیلئے دی گئی سرکاری گاڑی کیلئے 250 لٹرپٹرول ماہانہ ہوگا۔عوامی حلقوں میں اس فیصلے کو کفایت شعاری کے برعکس قرار دیا جا رہا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہی وسائل صحت، تعلیم، پانی کی فراہمی اور امن و امان جیسے بنیادی شعبوں میں استعمال ہو سکتے تھے ۔ سالانہ 1 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد اضافی اخراجات کے تخمینے کے ساتھ یہ معاملہ صرف انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ مالی ترجیحات کا سوال بھی بن چکا، جس کا جواب بالآخر ٹیکس دہندگان کو درکار ہوگا۔