جوڈیشل کمیشن رکن کی نامزدگی کے اختیارات کیخلاف درخواست مسترد
آئینی شق میں مداخلت عدالتی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہوگی،سندھ ہائیکورٹ
کراچی ( سٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے جوڈیشل کمیشن پاکستان کے رکن کی نامزدگی کے اختیارات کے خلاف دائر درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت سپیکر قومی اسمبلی کو جوڈیشل کمیشن کے لیے غیر پارلیمانی رکن نامزد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ، تاہم آئین میں ٹیکنوکریٹ کی اصطلاح کے لیے کوئی واضح معیار مقرر نہیں کیا گیا۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمیشن کے رکن کی نامزدگی شفاف اور باقاعدہ قواعد و ضوابط کے تحت ہونی چا ہئے اور آئینی شق کا مقصد کمیشن میں خواتین یا غیر مسلم نمائندگی کو یقینی بنانا ہے ۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ تقرری کا اختیار مکمل طور پر سپیکر قومی اسمبلی کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جاسکتا ،عدالت نے آبزرویشن دی کہ آئین کے آرٹیکل 175A(2)(viii) کے الفاظ واضح ہیں اور اس کی نئی تشریح کے ذریعے مفہوم میں اضافہ کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے ، عدالت کا نہیں ،عدالت نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزار کی استدعا بالواسطہ طور پر عدالت کو قانون سازی کی دعوت دینے کے مترادف ہے ۔