پولیس یونیفارم میں کچھ لوگ درندے بن جاتے :قائمہ کمیٹی
احمد جاوید قتل کیس میں ملزم سے منسلک ایم پی اے کی سیاسی وابستگی پروضاحت طلب اگلے اجلاس میں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور تفتیشی افسران کو طلب کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا جس میں لاہور میں احمد جاوید کے قتل کیس، چائلڈ پروٹیکشن اداروں کی کارکردگی اور تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے رجحان کا جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں لاہور کے قتل کیس پر بات کرتے ہوئے سینیٹر رانا محمود الحسن نے انکشاف کیا کہ بچے پر 150گولیاں چلائی گئیں۔ سینیٹر سید مسرور احسن نے مقتول کے والد سے استفسار کیا کہ کیا ان کے بیٹے کی ملزم سے کوئی پرانی دشمنی تھی ؟ جس پر متاثرہ خاندان نے واضح کیا کہ ان کے بیٹے کی ملزم سے کوئی پہلے سے ملاقات نہیں تھی۔سینیٹر شیر علی عبید نے پولیس کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس یونیفارم میں بیٹھ کر کچھ لوگ درندے بن جاتے ہیں۔ مقتول احمد جاوید کے والد نے کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کے کچھ افسران کا ملزمان کے خاندانوں سے تعلق ہے اور ان کے ساتھ شراکت داری ہے ۔
سینیٹر قرۃالعین مری نے سوال اٹھایا کہ جب 150 گولیاں چلائی گئیں تو انسداد دہشتگردی کی دفعات کیوں نافذ نہیں کی گئیں؟ آئی جی پنجاب کے نمائندے نے جواب دیا کہ جب تک ملزم کا تعلق کسی دہشتگرد تنظیم سے نہ ہو، اے ٹی اے کی دفعہ 7 نافذ نہیں کی جاتی۔ کمیٹی چیئرپرسن ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ڈانس پارٹی ہوئی یا نہیں، 150 گولیاں کیسے چلائی گئیں؟ انہوں نے ضمانت کی منظوری پر حیرانی کا اظہار کیا اور ملزم سے منسلک ایم پی اے کی سیاسی وابستگی کے بارے میں وضاحت طلب کرلی ۔سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ پوری کمیٹی کا متفقہ موقف ہے کہ یہ مقدمہ دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج ہونا چاہیے تھا۔ کمیٹی نے اگلے اجلاس میں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور تفتیشی افسران کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل کی بریفنگ میں انکشاف ہوا کہ کھنہ پل، ترلائی اور مہرآبادی جیسے علاقوں میں آٹھ سال کے بچے منشیات استعمال کر رہے ہیں۔