متحدہ عرب امارات سے 2ارب ڈالر ڈیپازٹس1سال کیلئے رول اوور کروائیں:آئی ایم ایف

متحدہ عرب امارات سے 2ارب ڈالر ڈیپازٹس1سال کیلئے رول اوور کروائیں:آئی ایم ایف

وفد کی یو اے ای سفیر سے ملاقات متوقع ، سنگین صورتحال ہے ، مذاکرات آسان نہیں ہونگے ،اعلیٰ افسر ،سٹیٹ بینک نے تکنیکی ڈیٹا وفد کے ساتھ شیئر کر دیا، ایکسچینج ریٹ پر بریفنگ امارات 2 ارب ڈالر نہیں نکا لے گا،رول اوورکی مدت زیادہ ہوگی :اسحاق ڈار، پوزیشن بہتر ہے :وزیر خزانہ،پیر سے مذاکرات ، بجٹ سے پہلے معاہدہ متوقع ،1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکان

اسلام آباد(مدثرعلی رانا،نیوزایجنسیاں، مانیٹرنگ  ڈیسک)آئی ایم ایف کا جائزہ مشن 15 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا، وفد نے کراچی میں سٹیٹ بینک حکام سے ملاقات کی، باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آئی ایم ایف وفد نے ملاقات میں متحدہ عرب امارات کا دو ارب ڈالر ڈیپازٹس ایک سال کیلئے رول اوور نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ متحدہ عرب امارات سے 2ارب ڈالر ڈیپازٹس ایک سال کیلئے رول اوورکروائیں ،سٹیٹ بینک حکام نے یقین دہانی کرائی کہ مذاکرات کے دوران ہی مثبت پیشرفت ہو جائے گی ،اس سلسلے میں آئی ایم ایف وفد کی متحدہ عرب امارات کے سفیر سے بھی ملاقات کا امکان ہے ، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے غیررسمی گفتگو کے دوران بتایا کہ متحدہ عرب امارات 2 ارب ڈالر زرمبادلہ کے ذخائر سے نہیں نکالے گا ، ڈپیازٹس رول اوور کرنے کیلئے بات چیت جاری ہے ،اسحاق ڈار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس بار جو رول اوور ہوگا اس کی مدت زیادہ ہو گی، ادھر وزیرخزانہ محمداورنگزیب نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اجلاس کے بعد صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کے دوران کہا کہ ڈیپازٹ رول اوور پر پاکستان اور یو اے ای کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے ،آئی ایم ایف کیساتھ طے شدہ ایکسٹرنل فنانسنگ پلان پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات سے قرض رول اوور بارے سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کو اس بارے پریشانی ہونی چاہیے میڈیا کو کیوں ہے ؟ قرض رول اوور کیلئے ہم امارات سے رابطے میں ہیں اور ہم بہتر پوزیشن میں ہیں ،دوسری طرف نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ٹاپ لیول بیوروکریٹ نے دنیا نیوزسے بات چیت کے دوران بتایا کہ سنگین صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے تاحال تحریری یقین دہانی نہیں کروائی گئی اور دو ماہ کے عارضی رول اوور ہونے پر حکومت دوبارہ بات چیت کر رہی ہے کیونکہ اقتصادی جائزہ میں حکومت کو صورتحال واضح کرنا ہو گی، یہ بھی بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے کیونکہ ایف بی آر ریونیو شارٹ فال، ایس او ایز ایکٹ کے تحت سٹیچوری باڈیز کے ایکٹ میں ترمیم، ساورن ویلتھ فنڈز میں ترمیم جیسے اہم اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے ، یو اے ای کی جانب سے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر ڈیپازٹس سٹیٹ بینک میں ہیں 1 ارب ڈالر کا 17 جنوری اور ایک ارب ڈالر کا 23 جنوری کو ڈپازٹ ٹائم مکمل ہونے کے بعد رول اوور ہونے کیلئے حکومت پُرامید تھی چونکہ اس سے قبل بھی یہی ایکسرسائز رہی ہے جبکہ 1 ارب ڈالر کی تیسری قسط کو میچورٹی ٹائم قریب آنے پر رول اوور کرایا جائے گا۔

ایک ماہ کے رول اوور کی میعاد 16 فروری اور 23 فروری کو مکمل ہو چکی ہے جس کے اب مزید دو ماہ کے رول اوور کی معیاد 16 اور 23 اپریل کو مکمل ہو گی، باوثوق ذرائع نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات سے تین ارب ڈالر کے سیف ڈپازٹس پر مختلف شرح سود ادا کرنا ہو گی جو تقریبا 6.5 فیصد سے زائد ہو سکتی ہے ، وزیراعظم آفس اور وزارت خزانہ کی امارات حکام سے بات چیت جاری ہے ، ایکسٹرنل فنانسنگ پلان پر بریفنگ کے دوران وفد کو آگاہ کیا گیا کہ دسمبر کے دوران سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ نے بھی 3 ارب ڈالرز کے ڈیپازٹ کی مدت میں مزیدایک سال کی توسیع کی ہے ، پلان کے مطابق رواں مالی سال مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر قرض رول اوور کرایا جائے گا جس میں سعودی عرب اور چین سے 9 ارب ڈالر سیف ڈیپازٹس کو رول اوور کا تخمینہ لگایا گیا ہے ،متحدہ عرب امارات کے بھی 3 ارب ڈالر کو ملا کر 12 ارب ڈالر رول اوور ہو گا، آئی ایم ایف وفد سے کراچی میں اوورسیز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندگان کی ملاقات بھی شیڈول ہے ۔جائزہ مشن 11 مارچ تک پاکستان میں قیام کرے گا، پہلے مرحلے میں کراچی، دوسرے میں اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے ، مشن مالی سال کے پہلے 6 ماہ (جولائی تا دسمبر)کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لے گا، آئندہ مالی سال کے بجٹ کے بنیادی خدوخال بھی جائزہ شیڈول میں شامل ہیں۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ٹیکس ریونیو کے سوا آئی ایم ایف کے بیشتر اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں، ایف بی آر کو پہلے چھ ماہ میں 329 ارب روپے جبکہ سات ماہ میں 372 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے ، جس پر مشن کو بریفنگ دی جائے گی۔حکومت کی جانب سے سالانہ ٹیکس ہدف میں مزید کمی کی درخواست بھی زیر غور ہے ۔ذرائع کے مطابق صوبائی اور مجموعی مالیاتی فریم ورک، گورننس، اینٹی کرپشن اقدامات، نیب اور اہم اداروں میں تقرریوں کے عمل کا بھی جائزہ لیا جائے گا، ایف بی آر کے انسدادِ بدعنوانی سیل کو مزید مضبوط بنانے ، سرکاری افسروں کے اثاثے عام کرنے اور اصلاحاتی ایکشن پلان پر بھی بات چیت ہوگی ، وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کے بنیادی خدوخال،صوبائی اور مجموعی مالیاتی فریم ورک پربات ہوگی۔ گورننس،اینٹی کرپشن اقدامات،نیب سمیت اہم اداروں میں تقرریوں کے عمل کا جائزہ بھی ایجنڈے کا حصہ ہے ، آئی ایم ایف سے سرکاری افسروں کے اثاثے عام کرنے سمیت اصلاحات کا ایکشن پلان شیئر کیاجائے گا،نئے مالی سال کے بجٹ سے پہلے پاکستان کو سٹاف لیول معاہدے کی توقع ہے اور 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں