پنجاب اسمبلی:طیارے کی خریداری پر سوالات،اپوزیشن ارکان کاغذی جہاز لے آئے

پنجاب اسمبلی:طیارے کی خریداری پر سوالات،اپوزیشن ارکان کاغذی جہاز لے آئے

کسی مہمان کیلئے جہازمل سکتا؟پی پی رکن شازیہ عابد،جہاز پنجاب حکومت کا ہے جیسے مرضی استعمال کرے :وزیر اطلاعات حکومت نے جواب دینا ہوتا تو خریداری جائز ثابت کرتے :سپیکر ،4 آرڈیننسز، 4مسودات قوانین پیش، کمیٹیوں کے سپرد

لاہور (سیاسی نمائندہ، نیوز ایجنسیاں) پنجاب اسمبلی کا اجلاس نئے سرکاری طیارے کی خریداری پر شدید ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا۔ اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کرتے ہوئے کاغذی جہاز لہرائے اور اپنے مائیکس پر بھی آویزاں کر دیے ، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔اجلاس دو گھنٹے سے زائد تاخیر سے اسپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ عابد نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی غیر ملکی یا سیاسی مہمان نے جنوبی پنجاب کا دورہ کرنا ہو تو کیا 11 ارب روپے کا جہاز دستیاب ہوگا؟ اس پر اپوزیشن نے ڈیسک بجا کر ان کی تائید کی۔صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ جہاز پنجاب حکومت کی ملکیت ہے اور اسے جیسے چاہے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی سرکاری جہاز استعمال کرتے ہیں۔قائد حزب اختلاف معین ریاض قریشی نے مطالبہ کیا کہ حکومت واضح کرے طیارہ کس مد میں خریدا گیا اور آیا یہ ایئر پنجاب منصوبے کے لیے ہے یا وزیر اعلیٰ کے استعمال کیلئے ۔

ان کا کہنا تھا کہ لگژری طیارے کی ضرورت پر عوام کو اعتماد میں لیا جائے ۔ہنگامہ آرائی کے دوران بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ارکان اسمبلی کی گرفتاریوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے ایک دوسرے پر سیاسی انتقام کے الزامات عائد کیے ۔ غیر پارلیمانی الفاظ پر احتجاج کے بعد اسپیکر نے متعلقہ ریمارکس حذف کرا دیے ۔اسپیکر نے ریمارکس دیے کہ جہاز کی خریداری سے متعلق جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ، اگر جواب دینا مقصود ہوتا تو خریداری کو جائز ثابت کیا جاتا۔اجلاس میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس سمیت چار آرڈیننس اور چار مسودات قوانین پیش کیے گئے ، جنہیں دو ماہ کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر کے رپورٹ طلب کر لی گئی۔ امن و امان پر عام بحث کے دوران حکومت نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے ، جبکہ اپوزیشن نے ماورائے عدالت واقعات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ۔شدید شور شرابے اور طویل بحث کے بعد اسپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں