وزیر اعظم کی طرف سے ملاقات کی دعوت آئی تو مثبت جواب دیا جائیگا : اپوزیشن اتحاد

وزیر اعظم کی طرف سے ملاقات کی دعوت آئی تو مثبت جواب دیا جائیگا : اپوزیشن اتحاد

ہماری طرف سے حکومت کو مذاکرات کی کوئی پیشکش نہیں ،ہم تک یہ اطلاعات پہنچیں کہ شہباز شریف اپوزیشن سے ملنا چاہتے ہیں:ترجمان تحریک تحفظ آئین چاہتے ہیں محاذ آرائی ختم ہو:جنید اکبر،عمران خان کے دئیے مینڈیٹ کے مطابق بات ہوگی:عاطف خان، شفا انٹرنیشنل میں علاج کی سہولت دیں:سنٹرل کمیٹی

اسلام آباد(سید ظفر ہاشمی،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے واضح کیا ہے متحدہ اپوزیشن حکومت سے مذاکرات پر رضامندہے ، وزیر اعظم کی طرف سے ملاقات کی دعوت آئی تو مثبت جواب دیا جائے گا۔تحریک تحفظ آئین کے ترجمان نے دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری طرف سے حکومت کو مذاکرات کی کوئی پیشکش نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم تک یہ اطلاعات پہنچی ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف اپوزیشن سے ملنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم کی طرف سے ملاقات کی کوئی دعوت آتی ہے تو ہمارا جواب بھی اس سلسلے میں مثبت ہو گا۔

قبل ازیں اسلام آباد میں مصطفیٰ نواز کھوکھر کی رہائش گاہ پر افطار کے موقع پر تحریک تحفظ آئین کی سنٹرل کمیٹی کا اجلاس ہوا ،جس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس، پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مصطفیٰ نواز کھوکھر، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر ،عاطف خان،ترجمان ٹی ٹی اے پی اخونزادہ حسین یوسفزئی، جسٹس (ر)شاہد جمیل،سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حسن رضا، حقوق خلق پارٹی کے رہنما عمار رشید، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے زین شاہ اور رمضان بھیرو، عوام پارٹی پاکستان کے ڈاکٹر ظفر مرزا اور وکیل بانی پی ٹی آئی عمران خان خالد یوسف نے شرکت کی۔

جنید اکبر نے کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور مذاکراتی عمل پر یقین رکھتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ مفاہمت اور ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کا حل نکلے ، چاہتے ہیں اداروں سے محاذ آرائی ختم ہو لیکن حکومت کو بھی اپنا رویہ اور انداز درست کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پولیٹیکل سپیس نہیں دیتے زبردستی کرتے ہیں تو پھر ایسے میں مذاکرات بھی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا، آپ مذاکرات کے لیے ماحول بنائیں ہم بار بار کہتے ہیں آپ ایک قدم آگے بڑھیں گے ہم دو قدم ساتھ دیں گے ۔عاطف خان نے کہا کہ ہماری اپوزیشن اتحاد کی نشست ہوئی جس میں تمام جماعتوں کے ارکان شریک ہوئے ، اپوزیشن ارکان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو اعتماد کے ساتھ مذاکرات کا اختیار دے دیا ہے ، ہم حکومت کو مذاکرات کا جواب دیں گے اور عوام کو بھی آگاہ کریں گے کہ ہم نے اپنا موقف پیش کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے پاکستان اور آئین کے لیے بات چیت کریں ہم نے اس کے لیے ہامی بھری ہے ، گزشتہ شب مذاکرات کے حوالے سے بحث ہوئی اور دونوں رہنماؤں پر اعتماد کیا ہے ۔ اپوزیشن رہنما عمران خان کے دئیے گئے مینڈیٹ کے مطابق بات کریں گے ۔تحریک تحفظ آئین کی قیادت نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کی فوری سہولت فراہم کرنے ، ان کے ذاتی معالجین کی جانب سے طبی معائنہ کرنے اور اپنے وکلا تک رسائی اور اہل خانہ کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا عمران خان نا حق قید کئے گئے ہیں ، انہیں رہا کیا جائے ۔ انہوں نے دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا، انہوں نے کہا وفاقی حکومت صوبائی حکومت ، تمام سیاسی فریقین اور عوام کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کے مسئلے پر ایک ٹھوس قومی حکمت عملی بنائے ۔ انہوں نے مزید کہا حکومت ایران کے خلاف کسی بھی امریکی اقدام کو روکنے کے لئے سفارتی سطح پر کردار ادا کرے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں