پنجاب ریسکیو 1122 ملازمین پر سول سرونٹس ایکٹ قواعد لاگو نہیں : سپریم کورٹ

پنجاب ریسکیو 1122 ملازمین پر سول سرونٹس ایکٹ قواعد لاگو نہیں : سپریم کورٹ

یہ ملازمین پبلک سرونٹس ہیں، سروس ٹربیونل کو ان کے مقدمات سننے کا اختیار نہیں تھا:عدالت، پنجاب حکومت کی اپیل منظور قبضہ یا طویل عرصہ زمین پاس رکھنے سے ملکیت ثابت نہیں، زبانی معاہدوں کے کیسز کا معیارِ ثبوت سخت:اراضی منتقلی فیصلہ کالعدم

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے پنجاب ریسکیو 1122 ملازمین کے سروس سٹرکچر سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب حکومت کی اپیل منظور کر لی ۔ جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ریسکیو 1122 ملازمین پبلک سرونٹس ہیں تاہم ان پر سول سرونٹس ایکٹ کے قواعد و ضوابط لاگو نہیں ہوں گے ۔ ریسکیو ملازمین اپنے سروس معاملات اور دیگر ایشوز کیلئے متعلقہ ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتے ، سروس ٹربیونل کو ان کے مقدمات سننے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔

سروس ٹربیونل کا دائرہ اختیار اس معاملے میں لاگو نہیں ہوتا۔ یاد رہے سروس ٹربیونل نے 2023 میں اپنے فیصلے میں ریسکیو 1122 ملازمین کو سول سرونٹس قرار دیا جس کے خلاف پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے سروس ٹربیونل کا 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ ادھر سپریم کورٹ نے 1992 کے مبینہ زبانی معاہدہ کی بنیاد پر زمین کی منتقلی سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار غلام علی کی اپیل منظور کر لی۔ جسٹس شاہد بلال حسن کے جاری تحریری فیصلہ میں قرار دیا گیا کہ محض قبضہ یا طویل عرصے تک زمین اپنے پاس رکھنے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔ زبانی معاہدوں سے متعلق مقدمات میں سخت معیارِ ثبوت لاگو ہوگا۔

1992 کے مبینہ زبانی معاہدے کو قانون کے مطابق ثابت نہیں کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق دعویٰ کیا گیا کہ جرگے میں طے پایا کہ غلام علی 32 کنال زمین مدعیان کو دے گا اور صلح کے بعد قبضہ حوالے کر دیا گیا، 2016 میں غلام علی نے انتقال رجسٹرڈ کرانے سے انکار کر دیا۔ ٹرائل کورٹ نے ابتدائی طور پر مدعیان کا دعویٰ خارج کر دیا البتہ اپیل میں مخصوص کارکردگی کا دعویٰ منظور کر لیا گیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور لاہور ہائیکورٹ نے بھی فیصلہ برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ نے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے ۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد زمین منتقلی کا حکم ختم کر دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں