پرانے عدالتی فیصلے نئے قانون کی موجودگی میں درخواست گزار کے کام نہیں آسکتے : لاہور ہائیکورٹ
تبادلہ سروس کا حصہ ہے ،ملازم اپنی مرضی کے سٹیشن پر رہنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا :جسٹس راحیل کامران لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے بعد پرانا قانون ختم ہو چکا :بلڈنگ انسپکٹر عمران کی تبادلے کیخلاف درخواست خارج
لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کے تبادلوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا،عدالت نے بلڈنگ انسپکٹر محمد عمران ارشاد کی تبادلے کے خلاف درخواست خارج کر دی،چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران نے قرار دیا کہ سرکاری ملازمت میں تبادلہ سروس کا حصہ ہے ،ملازم اپنی مرضی کے سٹیشن پر رہنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا، صرف 8 دن میں تبادلہ ہونا بذاتِ خود غیر قانونی نہیں، جب تک انتظامی بدنیتی ثابت نہ ہوعدالتی مداخلت نہیں کی جا سکتی۔
جسٹس کامران نے مزید قرار دیا کہ پرانے عدالتی فیصلے نئے قانون کی موجودگی میں درخواست گزار کے کام نہیں آ سکتے ،محکمہ بلدیات کے ملازمین اب مخصوص مدت تک ایک ہی جگہ تعیناتی کا قانونی حق نہیں رکھتے ،پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے نفاذ کے بعد پرانا قانون ختم ہو چکا ،نئے قانون میں ملازمین کی تعیناتی کی مدت یعنی سکیورٹی آف ٹنیور کا کوئی تحفظ موجود نہیں۔عدالت کے روبرو درخواست گزار بلڈنگ انسپکٹر محمد عمران ارشاد نے محض آٹھ دنوں کے اندر تبادلے کے خلاف درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ بغیر کسی ٹھوس وجہ اور نوٹس کے اتنی جلدی تبادلہ کرنا انتظامی بدنیتی ہے ۔