حکومت اپوزیشن مذاکرات، سب سے بڑا مسئلہ اعتماد کی کمی

حکومت اپوزیشن مذاکرات، سب سے بڑا مسئلہ اعتماد کی کمی

کامیابی سنجیدگی ،واضح ایجنڈے پر اتفاق ،تیسرے فریق کی غیر جانبداری سے مشروط

(تجزیہ:سلمان غنی)

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ایک مرتبہ پھر حکومت سے مذاکراتی عمل کا عندیہ دیا ہے ۔ یہ فیصلہ اپوزیشن کے اعلیٰ سطح اجلاس میں طویل مشاورت کے بعد کیا گیا اور حکومت سے مذاکرات کا اختیار پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈرز محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو دیا گیا ،لہٰذا اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے مذاکراتی عمل میں سنجیدگی کیا ظاہر کرتی ہے اور کیا حکومت بھی مذاکرات کی ضرورت محسوس کرتی ہے اور یہ کہ جس مذاکراتی عمل کی بات ہو رہی ہے اس کا ایجنڈا کیا ہوگا اور کیا مذاکراتی عمل میں بانی پی ٹی آئی کیلئے ریلیف بھی ایجنڈا کا حصہ ہوگا ؟۔ملکی سیاست کا بحیثیت مجموعی جائزہ لیا جائے تو اس وقت بڑا مسئلہ اعتماد کی کمی ہے اپوزیشن خصوصاً پی ٹی آئی تو یہ کہتی نظر آتی ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے سیاسی عمل کو کنٹرول کر رہے ہیں جبکہ حکومت کا موقف یہ ہے کہ اپوزیشن احتجاج اور دباؤ کی سیاست کے ذریعے سیاسی استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔

اس وجہ سے مذاکرات کا ماحول کافی مشکل ہے ۔اگر زمینی حقائق کا ادراک کیا جائے تو مذاکرات تب ممکن بنتے ہیں جب سیاسی درجہ حرارت کم ہو اور فریقین ایک دوسرے کے کردار کو تسلیم کریں، یا کوئی قومی بحران فریقین کو بات چیت پر مجبور کرے ۔موجودہ صورتحال میں حکومت خود کو مضبوط سمجھتی ہے اور اس بنا پر وہ اپوزیشن سے مذاکرات کیلئے زیادہ بے چین نہیں اور نہ ہی اپوزیشن کو بڑا ریلیف دینے کے موڈ میں ہے ،جبکہ اپوزیشن اپنے ممکنہ آپشنز بروئے کار لانے کے بعد مذاکرات کی ضرورت و اہمیت کا احساس کر رہی ہے اور خصوصاً اپوزیشن لیڈرز مذاکرات اور مفاہمت کی ضرورت کا احساس کرتے نظر آ رہے ہیں، لیکن کیا خواہشات کا یہ عمل آگے بڑھ پائے گا ۔ویسے تو سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو سیاسی مذاکرات تین نکات سے مشروط ہوتے ہیں۔ سیاسی قوتوں کی سنجیدگی ،کسی واضح ایجنڈے پر اتفاق اور خصوصاً تیسرے فریق کی غیر جانبداری، لہٰذا سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکراتی عمل تبھی شروع ہو سکتے ہیں جب ان کے درمیان ایجنڈا طے ہو اور اگر اپوزیشن جلد انتخابات یا حکومت سے نجات کی بات کرے گی تو یہ کیسے ممکن بن پائے گا۔

اگر حکومت یہ چاہے کہ اپوزیشن حکومت کی معینہ مدت تک خاموشی اختیار کرے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے تو یہ اپوزیشن قبول نہیں کرے گی اور جہاں تک پاکستان کی مقتدرہ کی غیر جانبداری کا سوال ہے تو فی الحال بوجوہ و ہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کے طرز عمل کے باعث لچک دینے کو تیار نظر نہیں آتی ۔پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ بڑے سیاسی ڈیڈ لاک اکثر اداروں کی خاموش ثالثی سے ختم ہوئے ۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے پیش نظر سیاسی استحکام اور معاشی بہتری ہے جبکہ موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کے طرزعمل نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو ایک خاص سطح پر لاکھڑا کیا ہے اور وہ کھلے طور پر یہ کہنے پر مجبور ہے کہ جسے مذاکرات کرنا ہیں حکومت سے کرے ،مطلب کہ وہ اس میں دلچسپی ظاہر کرتے نظر نہیں آتے ۔

ویسے بھی اپوزیشن ملک میں کوئی ایسی غیر معمولی اور ہنگامی صورتحال طاری نہیں کر پائی کہ یہ ضرورت محسوس ہو کہ وہ فریقین کو میز تک لانے میں سہولت کار بن سکے ، لہٰذا اس مرحلہ پر اپوزیشن کی جانب سے حکومت سے مذاکرات عندیہ ظاہر کرتا ہے کہ مذاکرات اور مفاہمت حکومت کی نہیں خود اب اپوزیشن کی ضرورت ہے ۔لیکن حکومت تب تک مذاکرات کی میز نہیں سجائے گی جب تک اسے یہ یقین نہ ہو جائے کہ اپوزیشن کا مطمح نظر واقعتاً ملکی صورتحال اور سیاسی استحکام ہے ، اور اگر اپوزیشن مذاکراتی عمل کو بانی پی ٹی آئی کے معاملات اور ریلیف سے مشروط کرے گی تو مذاکرات کے امکانات بنیں گے اور نہ ہی ان میں کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں