پاک افغان کشیدگی:سفارتی محاذ متحرک کرنے کی ضرورت

 پاک افغان کشیدگی:سفارتی محاذ متحرک کرنے کی ضرورت

تل ابیب ملاقات کے بعد خطے میں نئی صف بندیاں، پاکستان کا دوٹوک مؤقف

 (تجزیہ:سلمان غنی )

افغانستان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر پیدا شدہ صورتحال اور اس کے جواب میں پاکستان کی بھرپور کارروائی نے واضح کر دیا ہے کہ ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ پاکستان نے مؤثر جواب دے کر یہ پیغام دیا کہ اس کی دفاعی حکمت عملی کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی علامت ہے ۔ تاہم سوال یہ ہے کہ افغان طالبان نے ایسی پیش قدمی کیوں کی اور اس کے پس منظر میں کون سے عوامل کارفرما ہیں؟۔حالیہ کشیدگی کو خطے کی وسیع تر صورتحال سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے دورئہ تل ابیب اور وہاں بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد افغانستان سے اظہارِ یکجہتی نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ مبصرین کے مطابق بھارت خطے میں پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کرنا چاہتا ہے ۔

سرحدی جھڑپوں کے انداز سے بھی منظم منصوبہ بندی کی جھلک دکھائی دی، مگر پاکستان کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے صورتحال کا رخ موڑ دیا۔اصل مسئلہ صرف سرحدی خلاف ورزی نہیں بلکہ دہشت گردی کا وہ چیلنج ہے جس میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کلیدی عنصر ہے ۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے ۔ اگر اس مسئلے کا مستقل حل نہ نکالا گیا تو کشیدگی میں کمی مشکل ہوگی اور اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہوگا۔ دوسری جانب افغان طالبان کو بھی داخلی و خارجی دباؤ کا سامنا ہے ۔ عالمی سطح پر انہیں تاحال تسلیم نہیں کیا گیا اور ان کی سرزمین پر شدت پسند گروہوں کی موجودگی ان کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے ۔ ایسے میں تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔ پاکستان کو سفارتی سطح پر عالمی برادری کو متحرک کرنا ہوگا اور واضح کرنا ہوگا کہ سرحد پار دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے ۔علاقائی سطح پر چین اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور سہ فریقی مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ، تاہم پائیدار حل اسی صورت ممکن ہے جب افغان قیادت دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح اور عملی اقدامات کرے ۔ امن پاکستان کی خواہش ضرور ہے ، مگر دفاع پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں