لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن : پروفیشنل گروپ کامیاب، انڈیپنڈنٹ کا ماننے سے انکار : پنجاب بار نے نتائج معطل کر دیئے

لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن : پروفیشنل گروپ کامیاب، انڈیپنڈنٹ کا ماننے سے انکار : پنجاب بار نے نتائج معطل کر دیئے

صدارتی امیدوار بابر مرتضیٰ 6ہزار234ووٹ لے کر منتخب ،مدمقابل راجہ عامر نے 3ہزار781ووٹ لئے :الیکشن بورڈ پولنگ ختم ہونے سے گھنٹہ قبل نتائج کا اعلان غیر قانونی :امیدوار انڈیپنڈنٹ گروپ ،درخواست سماعت کیلئے منظور،ریکارڈ طلب

لاہور(کورٹ رپورٹر ،اے پی پی )لاہور ہائیکورٹ بار کے سالانہ انتخابات متنازع ہوگئے ، الیکشن بورڈ نے مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پہلے ہی حامد خان (پروفیشنل )گروپ کے صدارتی امیدوار بابر مرتضیٰ کو کامیاب قرار دے دیا جبکہ احسن بھون (انڈیپنڈنٹ )گروپ نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ، پنجاب بار نے نتائج معطل کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے گزشتہ روز سالانہ انتخابات ہوئے اور اس دوران احسن بھون (انڈیپنڈنٹ)گروپ اور حامد خان گروپ (پروفیشنل )کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا ،پولنگ صبح 9 بجے شروع ہوئی اور 4 بجے روک دی گئی ،تنازع اس وقت شروع ہوا جب ممبر پنجاب بار کونسل مقصود کھوکھر کا ووٹ درست کاسٹ نہ ہوا تو احسن بھون گروپ نے شدید احتجاج کیا اور بائیو میٹرک کے آئی ٹی انچارج سے انکوائری کی تو گھپلے سامنے آئے ،اس موقع پر الیکشن بورڈ نے پولنگ کا عمل روک دیا اور مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پہلے ہی نتائج کا اعلان کردیا۔

الیکشن بورڈ کے نتائج کے مطابق لاہور ہائیکورٹ بار کے سالانہ انتخابات میں حامد خان گروپ کے صدارتی امیدوار بابر مرتضیٰ 6ہزار234ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ احسن بھون گروپ کے راجہ عامر خان 3ہزار781ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے ۔ سیکرٹری کی نشست پر قاسم اعجاز سمرا 5ہزار429ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ مدمقابل لہراسپ حیات ڈاھر 18سو ووٹ حاصل کرسکے ، نائب صدر کی نشست پر سہیل قیصر تارڑ 4ہزار160ووٹ جبکہ فنانس سیکرٹری کی نشست پر ملک علی رضا کھوکھر 2068ووٹ لیکر منتخب ہوگئے ۔احسن بھون گروپ نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کا انکار کردیا اور اپنے صدارتی امیدوار راجہ عامر کو لیکر ہائیکورٹ بار کے صدر کی نشست پر بیٹھ گئے۔

اس موقع پر راجہ عمر نے خطاب میں کہا کہ وکلا برادری نے مجھے لاہور ہائیکورٹ بار کا نیا صدر قرار دے کر صدر کے دفتر میں بٹھا دیا ، پیرسے لاہور ہائیکورٹ کے صدر کی حیثیت سے کام شروع کروں گا،حامد گروپ نے جعلی ووٹ پکڑے جانے پر پولنگ کا وقت ختم ہونے سے قبل ہی انتہائی بھونڈے طریقے سے الیکشن کے جعلی نتیجے کا اعلان کر دیا ۔ دوسری جانب حامد خان گروپ کے صدارتی امیدوار بابر مرتضیٰ نے اپنی جیت پر وکلا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج آئین اور قانون کی بالادستی ہوئی ،پیر کے روز کامیابی کا بھرپور جشن منایا جائے گا، اس موقع پر حامی وکلاء نے شدید نعرے بازی کی ۔ بار کے الیکشن کے موقع پر پولیس نے سکیورٹی کے کڑے انتظامات کئے تھے۔

بعدازاں انڈیپنڈنٹ گروپ کے امیدوار راجہ عامر خان کی جانب سے پنجاب بار کونسل میں لاہور ہائیکورٹ بار کے الیکشن نتائج کیخلاف درخواست دائر کر دی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن بورڈ نے الیکشن قواعد و ضوابط کے تحت نہیں کروائے ،پولنگ کا وقت ختم ہونے سے ایک گھنٹے پہلے ہی پولنگ روک کر نتائج کا اعلان کردیا جو غیر قانونی ہے ، الیکشن نتائج کو کالعدم قرار دیا جائے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک نتائج کو معطل کیا جائے ۔چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل فخر حیات نے راجہ عامر کی درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے الیکشن کے نتائج معطل کر دیئے جبکہ پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے الیکشن بورڈ سے نتائج کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں