ٹرمپ اور نیتن یاہو نے اپنے بچاؤ کیلئے ایران پر حملہ کیا
امریکی صدر ایپسٹین فائلز چھپا رہا ،نیتن یاہو پر کرپشن کیس ہے :نجم سیٹھی نیوکلیئر پروگرام مسئلہ نہیں تھا، ایشوبنایاگیا :پروگرام ’آج کی بات سیٹھی کیساتھ‘
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کارنجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام مسئلہ نہیں تھا اس کو بڑا ایشوبنایاگیا ہے ،جب تک ٹرمپ نے اوباما کی پرانی ٹی ٹی کو ختم نہیں کیا تھا اس وقت تک انسٹرکشن جاری تھی ، سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا،ٹرمپ نے اس دفعہ آکر ٹی ٹی کو ختم کردیا ہے اس کے بعد ایسے لگتا تھا کہ کوئی نئے ادارے بن رہے ہیں،یہ کچھ اور کام کرنے جارہے ہیں،جیسے جیسے یہ وقت چلتا گیا ہمیں اس بات کا احساس ہوا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو یہ اپنے ملک میں کسی خطرے سے بہت ڈرتے ہیں،اس کو بائیوڈیویٹ کرنے کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں، اس کا پس منظر یہ ہے کہ ا ن کے ریٹائر جنرل ویسلے کلاک کے کئی بیانات ہیں،امریکن اسٹیبلشمنٹ کے جو پلان تھے ،انہوں نے 7 ملکوں کو ٹارگٹ کرنا تھا، جس میں انہوں نے آخر میں ایران کو نشانہ بنانا تھا،ان میں چھ ممالک پہلے ہی ٹارگٹ ہوچکے ہیں،اب انہوں نے ایران کا ٹارگٹ کردیا، مگر ٹائمنگ بڑی دلچسپ ہے ،نتین یاہو پر ایک کرپشن کا کیس ہے ، جس سے یہ بچ نہیں سکتا،اس کو دبایا جارہا ہے۔
دوسری طرف ٹرمپ ایپسٹین فائلزکو چھپا رہا ہے جس میں ٹرمپ کے بارے میں ٹھوس شواہد ہیں،دونوں نے اپنے آپ کو بچانے کیلئے ایران پر حملہ کیا، حملے کا پہلے سے پلان بھی تھا ، اس کیلئے تیاریاں بھی تھیں،اب یہ فیصلہ ہوا کہ ایران پر حملہ کرنا ہے ،پہل امریکا نے کرنی تھی مگر آج یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اکٹھے ایران پر حملہ کریں گے ،آپ شروع کریں ،ہم ساتھ ہیں،پہلے اسرائیل نے حملہ کیا، اس کے ساتھ ہی امریکا آگیا،یہ جو مذاکرات ہورہے تھے کہ اس کے پیچھے تیاریاں تھیں، مذاکرات نہیں تھے ،اب فیصلہ یہ ہوا ہے کہ ایران میں رجیم چینج کرکے اس کے ٹکڑے کرنے ہیں، لبنان، شام میں وہ ٹکڑے کرچکے ہیں، عراق بھی ٹکڑے ہی ہوا ہے ، مختلف گروپس بنے ہوئے ہیں۔ ایران پوری طرح تیار تھا کہ معاملہ حل ہوجائے ، یورینیم کی افزودگی میں کمی کردے گا۔
ایران نے پہلے بھی یہی معاہدہ کیا ہوا تھا کہ نیوکلیئر بم نہیں بنائیں گے ،اوباما نے جو ٹی ٹی سائن کی ہوئی تھی اس کے تحت یہ سارا معاملہ کنٹرول میں تھا، اب انہوں نے فیصلہ کیوں کیا کہ ایران پر حملہ کرنا ہے ،میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ حماس نے جو اسرائیل پر حملہ کیا تھا وہ فالس فلیگ آپریشن تھا،انہوں نے حماس کو کہا تھا کہ آپ حملہ کریں، یہ ہونہیں سکتا کہ ان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اس کا علم نہیں تھا، حالانکہ ان کی انٹیلی جنس کو یہاں تک پتا ہوتا ہے جب کوئی چڑیا اڑتی ہے ،حماس نے اتنا بڑا اٹیک کردیا یہ کہتے رہے کہ ہم کو پتا نہیں،انہوں نے حماس کو حملہ کرنے دیا، ان کا جو اپنا ایجنڈا تھا اس کو پورا کرنا تھا،اس قسم کا نائن الیون ہوا ہے ،اس قسم کے کام ایجنسیاں کرتی ہیں،تاکہ ان کو ایک اور موقع مل جائے اور وہ اپنا ایجنڈا پورا کرسکیں۔