ہائیکورٹ:جہیزحوالے نہ کرنے سے متعلق کیس کافیصلہ محفوظ

 ہائیکورٹ:جہیزحوالے نہ کرنے سے متعلق کیس کافیصلہ محفوظ

جہیزاپنی آمدنی سے خریدا، سابق شوہرنے تشددکیا توعلیحدہ ہوگئی،سامان اٹھانے نہ دیا بچے سابق شوہرکے پاس،مجھے ایئرفورس کی نوکری سے بھی فارغ کروادیا:خاتون

اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت نے طلاق کے بعد جہیز کا سامان حوالے نہ کرنے سے متعلق دائر درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔گزشتہ روزسماعت کے دوران درخواست گزار خاتون کے وکیل عدم غیری حاضری پر عدالت نے درخواست گزار کو خود دلائل دینے کی ہدایت کی، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیاکہ آپ کہیں ملازمت کرتی ہیں؟ ، جس پر درخواست گزارخاتون نے کہاکہ پہلے ائیر فورس میں ملازمت کرتی تھی،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ آپ ائیر فورس میں رہی ہیں اپنا کیس سمجھا سکتی ہیں، درخواستگزار خاتون نے کہاکہ جہیز کے لیے سامان اپنی آمدنی سے خریدا،سابق شوہر نے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا تو گھر چھوڑ کر علیحدہ ہوگئی۔

عدالت نے استفسار کیاکہ علیحدگی کے بعد سامان کیوں نہیں دیا؟،جس پر درخواست گزارنے کہاکہ بیس پر رہائش تھی تو سامان اٹھانے نہیں دے رہے تھے ،سامان کے مجھے پیسے بھی نہیں دیئے تھے ، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ کیا وہ بیس کمانڈر تھے جو سامان اٹھانے نہیں دیا، جس پر درخواستگزار خاتون نے کہاکہ گھر سابق شوہر کے نام پر الاٹ ہوا تھا ،بیس کمانڈر سے رجوع کیا لیکن انہوں نے کہا کہ عدالت سے رجوع کریں، دوران سماعت سابق شوہرکے وکیل نے کہاکہ ٹرائل کورٹ نے تیس فیصد رقم ادا کرنے کا حکم دیا اور اپیلیٹ کورٹ نے فیصلہ ختم کردیا،درخواست گزار خاتون نے بتایاکہ بچوں کی عمر دس اور سات سال ہے اور والد کے ساتھ رہتے ہیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیاکہ آپ نے اُن کے خوف سے نوکری چھوڑ دی؟، جس پر درخواست گزار خاتون نے کہاکہ خوف سے نہیں چھوڑی، سابق شوہر نے اپنا اثر رسوخ استعمال کیا،سابق شوہر کی جانب سے بھی کوئی رسیدیں وغیرہ عدالت میں پیش نہیں کی گئیں،عدالت نے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں