جنگ کے اثرات، پاکستانی معیشت بھی متاثر ہونے لگی
بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کے فی کنٹینر 2000 ڈالر تک اضافی چارجز وصول پیداواری لاگت بڑھے گی: فہیم، حکومت ریلیف اقدامات کرے :تنویر شیخ
لاہور (عبدالقادر مدنی سے ) امریکا اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کے معاشی اثرات پاکستان تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے بعد عالمی تجارت اور سمندری نقل و حمل بھی متاثر ہو رہی ہے ۔بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے جنگی خطرات، بڑھتے انشورنس پریمیم اور متبادل بحری راستوں کے اضافی اخراجات کے باعث وار رسک سرچارج اور فریٹ ریٹس میں نمایاں اضافہ کردیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان آنے والے کنٹینرز پر 1500 سے 2000 ڈالر تک فی کنٹینر اضافی چارجز وصول کیے جا رہے ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق ملکی بندرگاہوں پر یومیہ اوسطاً 5 ہزار کنٹینرز ہینڈل ہوتے ہیں۔ اگر فی کنٹینر اوسط 1500 سے 2000 ڈالر اضافی لاگت شامل کی جائے تو روزانہ 75 لاکھ سے ایک کروڑ ڈالر تک اضافی ادائیگی ہوسکتی ہے ، جو ماہانہ تقریباً 30 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے ۔
تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافی لاگت درآمد کنندگان سے صنعتکاروں اور پھر صارفین تک منتقل ہوگی، جس سے مہنگائی کی نئی لہر کا خدشہ ہے ۔ صدر لاہور چیمبر آف کامرس فہیم الرحمن سہگل کے مطابق پاکستان پہلے ہی تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے ۔ ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، پلاسٹک اور آٹو پارٹس سمیت متعدد صنعتیں درآمدی خام مال پر انحصار کرتی ہیں، لہٰذا فریٹ چارجز میں اضافہ براہِ راست پیداواری لاگت بڑھائے گا۔کاروباری رہنما تنویر احمد شیخ نے کہا کہ 2000 ڈالر فی کنٹینر اضافی وار چارجز معمولی اضافہ نہیں بلکہ کاروباری لاگت پر بڑا جھٹکا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ متبادل تجارتی راستوں، علاقائی تجارت کے فروغ اور بندرگاہی چارجز میں ریلیف جیسے اقدامات پر فوری غور کرے ۔ذرائع کے مطابق اگر خلیج فارس کی صورتحال طویل ہوئی تو پٹرول، ڈیزل، خوردنی اشیا، موبائل فونز، الیکٹرانکس اور ادویات سمیت متعدد درآمدی اشیا مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔ تجارتی برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی شعبے سے مشاورت کر کے ایسی پالیسی تشکیل دی جائے جو معیشت کو ممکنہ جھٹکوں سے بچا سکے ۔