16ویں قومی اسمبلی نے قانون سازی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا
نصف کے قریب پارلیمانی ایجنڈا نامکمل :پلڈاٹ رپورٹ میں انکشاف
اسلام آباد، لاہور (خصوصی نیوز رپورٹر،خبر نگار ) پلڈاٹ کی جانب سے جاری کردہ 16ویں قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کی جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسمبلی نے حالیہ ادوار کے مقابلے میں سب سے زیادہ قانون سازی کا ریکارڈ قائم کیا۔ تاہم رپورٹ میں حاضری، ایجنڈا مینجمنٹ اور مؤثر پارلیمانی نگرانی کے حوالے سے متعدد ساختی کمزوریوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق 16ویں قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال یکم مارچ 2025 سے 28 فروری 2026 تک جاری رہا۔ اس دوران اسمبلی کے 84 اجلاس منعقد ہوئے جبکہ پہلے سال میں 93 اجلاس ہوئے تھے جو 9.7 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے ۔
اس کے باوجود مجموعی کام کے اوقات بڑھ کر 231 گھنٹے ہو گئے جو گزشتہ سال کے 212 گھنٹوں سے زیادہ ہیں۔ یہ صورت حال کم اجلاسوں کے باوجود طویل نشستوں کی عکاسی کرتی ہے ۔قانون سازی کے میدان میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ پہلے سال 47 بلز منظور ہوئے تھے جبکہ دوسرے سال یہ تعداد بڑھ کر 59 ہو گئی جو 25.5 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے ۔ 12ویں سے 15ویں قومی اسمبلیوں کے دوسرے سالوں کے مقابلے میں یہ شرح نمایاں طور پر زیادہ ہے ۔ آرڈیننس پر انحصار بھی کم ہوا اور ان کی تعداد 16 سے گھٹ کر 8 رہ گئی۔اہم قانون سازی میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری شامل ہے جس کے تحت عدالتی تقرریوں اور ادارہ جاتی توازن سے متعلق اہم تبدیلیاں کی گئیں۔ اسی طرح انتخابات (ترمیمی) بل 2026 بھی منظور کیا گیا جس کے تحت مخصوص حالات میں معلومات تک عوامی رسائی محدود کرنے کا اختیار دیا گیا۔رپورٹ میں اس امر پر تشویش ظاہر کی گئی کہ اہم قوانین کی منظوری عجلت میں کی گئی جس کے باعث قائمہ کمیٹیوں میں تفصیلی جانچ پڑتال اور شق وار بحث کے مواقع محدود رہے ۔ مزید برآں دوسرے سال کے دوران یومیہ ایجنڈے کے 47.59 فیصد نکات مکمل نہ ہو سکے جو پارلیمانی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہیں۔