پارلیمانی رہنماؤں کا مشرق وسطی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور

پارلیمانی  رہنماؤں  کا  مشرق  وسطی  کشیدگی  میں  کمی  کیلئے  سفارتی  کوششیں  تیز  کرنے  پر  زور

شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس، ملی اتحادکی ضرورت پر اتفاق،پی ٹی آئی کی ان کیمرابریفنگ میں عدم شرکت اپوزیشن سیاست،اڈیالہ چھوڑ کر ایسے معاملات کو ذمہ دارانہ طور پر دیکھے تو خوشی :وزیر قانون،ایم کیوایم کاواک آئوٹ

اسلام آباد(نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مختلف پارلیمانی جماعتوں نے موجودہ حالات میں ملی اتحاد اوراتفاق ویگانگت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ کشیدگی میں کمی کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور انہیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں و نمائندوں کا اجلاس ہوا ۔اس دوران پاکستان افغانستان صورتحال، ایران، مشرق و سطٰی و خلیج میں کشیدگی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے ان کیمرا بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔شرکاء نے موجودہ حالات میں ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خطے میں امن کے لئے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سراہا ، انہیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کیں جبکہ ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام شرکاء نے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔

شرکاء نے پاکستان کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے وزیرِ اعظم کے اقدام کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔اجلاس میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صدر جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الر حمن شریک ہوئے ۔وفاقی وزرا احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطااللہ تارڑ، طارق فضل چودھری، عبدالعلیم خان، خالد حسین مگسی، خالد مقبول صدیقی، سالک حسین، سید مصطفیٰ کمال، رانا مبشر اقبال، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثنا اللہ ، معاون خصوصی طلحہ برکی، سینیٹرز شیری رحمن ، انوار الحق کاکڑ، منظور احمد کاکڑ، پرویز رشید، حافظ عبدالکریم، فیصل سبزواری، جان محمد بھی اجلاس میں موجود تھے ۔

اس کے علاوہ ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر، ڈاکٹر فاروق ستار، امین الحق اور پولین بلوچ بھی اجلاس میں شریک ہوئیں۔ان کیمرا بریفنگ میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کا کوئی رکن شریک نہیں ہوا۔اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اجلاس میں وزیراعظم اور وزارت خارجہ نے تفصیلی بریفنگ دی، یہ سلسلہ جاری رہنا چا ہئے ۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو حکومت بہت ذمہ داری سے دیکھ رہی ہے ۔ ہمیں خوشی ہوگی اگر اپوزیشن سیاست اور اڈیالہ کو چھوڑ کر مستقبل میں اس طرح کے معاملے کو ذمہ دارانہ طور پر دیکھے گی۔

دریں اثنا ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ ہوا آیت علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد جو صورتحال سامنے آئی ہے ،اس حوالے سے اجلاس بہت اہم تھا۔ ا نہوں نے کہا کہ میرا مائیک تین منٹ بعد بند کر دیا گیا،مجھے اظہار خیال کا موقع نہیں دیا گیا،اس رویہ پر پوری پارٹی کو صدمہ ہوا ہے ، ہم نے واک آؤٹ کیا ہے ، خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور افغانستان کے ساتھ بھی جنگ جاری ہے ۔ پارلیمانی لیڈر خالد مقبول صدیقی نے کہا کے فاروق ستار میری جگہ بات کریں گے ، خالد مقبول صدیقی کو کسی کا فون ضرور آیا تھا ہم نے واضح بتایا کے ہمارے ساتھ یہ سلوک ہو گا تو پھر ہمارے پاس اور کیا آپشن ہو گا،جو رویہ سندھ میں ہو رہا ہے وہ رویہ یہاں بھی ہو رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں