ایران بحران پر پارلیمنٹ میں گہری تشویش، عالمی خاموشی پر سوالات
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) عالمِ اسلام اس وقت سنگین حالات سے دوچار ہے ۔
پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غیرمعمولی بحث کا آغاز کرتے ہوئے امتِ مسلمہ سے اظہارِ یکجہتی کیا اور اس جارحیت کا باضابطہ نوٹس لیا۔پارلیمنٹ ہاؤس کے ایوانوں، راہداریوں اور لابیوں میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔پارلیمنٹ میں وقفہ وقفہ سے امریکا کا جو یار ہے غدار ہے غدار کی گونج سنائی دی ۔امن کے نوبیل انعام سے متعلق متنازعہ ویڈیو بھی حکمران اتحاد کا تعاقب کررہی ہے ۔ ارکان کا کہنا ہے کہ لیبیا، عراق، یمن اور فلسطین سمیت متعدد اسلامی ممالک کو درپیش بحرانوں پر متعلقہ تنظیموں کی جانب سے مؤثر اور مشترکہ لائحہ عمل سامنے نہیں آ سکا۔ ان کے مطابق ایران کی خودمختاری کو لاحق خطرات کے تناظر میں خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو رہا ہے جس پر فوری اور متحد ردعمل کی ضرورت ہے ۔
قومی اسمبلی میں بحث کے دوران اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور عرب لیگ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ۔ اپوزیشن ارکان نے علیحدہ اجلاس میں ایران پر حملوں کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے قراردادِ مذمت منظور کی جسے ہاتھ بلند کرکے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ایوان میں امریکی پالیسیوں اور اسرائیلی اقدامات پر سخت تنقید کی گئی۔ بعض ارکان نے اس نازک مرحلے پر حکومتی خارجہ حکمتِ عملی کے حوالے سے وضاحت طلب کی اور وزیراعظم کے ممکنہ بین الاقوامی روابط پر بھی سوالات اٹھائے ۔پارلیمانی و جمہوری حلقوں نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر عالمِ اسلام کو درپیش مسائل پر جامع بحث کو مثبت پیش رفت قرار دیا ۔ ارکان نے زور دیا کہ پاکستان اسلامی ممالک کو مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کے لیے فعال اور قائدانہ کردار ادا کرے اور پارلیمنٹ کی سفارشات کو پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے ۔